صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 341
صحیح البخاری جلد ۹ ام ۶۴ - کتاب المغازی كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ فِي بَيْتِي عائشہ کے گھر میں رہے یہاں تک کہ اُن کے پاس فَقَبَضَهُ اللهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي آپ فوت ہوئے۔حضرت عائشہ کہتی تھیں: آپ وَسَحْرِي وَخَالَطَ رِيْقُهُ رِيْقِي ثُمَّ اس دن فوت ہوئے جس دن آپ میرے گھر میں قَالَتْ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي میرے پاس باری پر آیا کرتے تھے۔اللہ نے آپ بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُ بِهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ کو اُٹھا لیا اور اس وقت آپ کا سر میری ٹھوڑی اور سینے کے درمیان تھا اور آپ کا لعاب میرے لعاب رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے ملا۔پھر انہوں نے کہا: عبد الرحمن بن ابی بکر فَقُلْتُ لَهُ أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا اندر آئے اور اُن کے پاس مسواک تھی، جس عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْطَانِيْهِ فَقَضِمْتُهُ ثُمَّ سے وہ مسواک کر رہے تھے۔رسول اللہ صلی للی ام مَضَغْتُهُ فَأَعْطَيْتُهُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله نے مسواک کی طرف دیکھا۔میں نے ان سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ بِهِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ کہا : عبد الرحمن ! مسواک مجھے دے دو اور انہوں نے مجھے وہ دے دی۔میں نے وہ توڑی اور توڑ کر چہائی۔پھر رسول اللہ صل ال تم کو وہ مسواک دے دی۔آپ نے اس مسواک سے مسواک کی اور آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔إِلَى صَدْرِي۔اطرافه ۸۹۰، ۱۳۸۹، ۳۱۰۰ ، ٣٧٧٤، ٤٤٣٨، ٤٤٤٦، ٤٤٤٩، ٤٤٥١ ٥٢١٧ ٦٥١٠ - ٤٤٥١: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۴۴۵۱ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَن کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عَنْهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ روایت کی، فرماتی تھیں: نبی ملا لیا کہ میرے گھر میں، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي میری باری کے دن، میرے سینے اور ٹھوڑی کے وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَكَانَتْ إِحْدَانَا درمیان فوت ہوئے اور جب آپ بیمار ہوتے ، ہم تُعَوّذُهُ بِدُعَاءِ إِذَا مَرِضَ فَذَهَبْتُ میں سے کوئی دعا پڑھ کر آپ کے واسطے پناہ مانگتا۔