صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 340
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۴۰ ۶۴ - کتاب المغازی أَنْ نَعَمْ فَلَيَّنْتُهُ فَأَمَرَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ میں نے آپ کو لے کر دی مگر وہ سخت تھی۔رَكْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ يَشُكُ عُمَرُ فِيْهَا مَاءً آپ چہانہ سکے۔میں نے کہا: کیا آپ کے لئے فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ یہ نرم کر دوں؟ آپ نے سر سے اشارہ کیا کہ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ يَقُوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا ہاں۔میں نے وہ نرم کر دی تو آپ نے مسواک کی۔اور آپ کے سامنے پانی کی چھاگل تھی یا کہا: اللهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ ثُمَّ نَصَبَ پیالہ تھا۔عمر بن سعید) اس کے متعلق شک يَدَهُ فَجَعَلَ يَقُوْلُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى کرتے ہیں۔اس میں پانی تھا، آپ اپنے ہاتھ پانی حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ۔میں ڈالتے اور اُن کو اپنے منہ پر پھیرتے۔فرماتے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔موت کی بھی سختیاں ہوتی ہیں۔پھر آپ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور فرمانے لگے : اعلیٰ رفیق کے ساتھ۔یہاں تک کہ آپ اُٹھا لئے گئے اور آپ کا ہاتھ جھک گیا۔اطرافه ۸۹۰، ۱۳۸۹، ۳۱۰۰ ، ،٣٧٧٤، ٤٤٣٨ ٤٤٤٦، ٤٤٥٠، ٤٤٥١ ٥٢١٧ ٦٥١٠ - عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ يَقُوْلُ أَيْنَ أَنَا غَدًا ٤٤٥٠: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنِي ۴۴۵۰ اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بیان کیا، کہا: ) سلیمان بن بلال نے مجھے بتایا کہ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا کہ میرے اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله باپ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں جس میں کہ آپ فوت ہوئے، پوچھتے تھے، فرماتے: کل میں کہاں ہوں أَيْنَ أَنَا غَدًا يُرِيْدُ يَوْمَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ كَا؟ کل میں کہاں ہوں گا؟ آپ کی مراد یہ تھی لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُوْنُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ که حضرت عائشہ کی باری کب ہو گی۔یہ معلوم فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا کرکے آپ کی ازواج نے آپ کو اجازت دے قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي دی کہ جہاں آپ چاہیں رہیں۔تب آپ حضرت