صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 337 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 337

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٤٧: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۴۴۴۷ اسحاق بن راہویہ) نے مجھ سے بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ بیان کیا کہ بشر بن شعیب بن ابی حمزہ نے حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الزُّهْرِيَ قَالَ أَخْبَرَنِي ہمیں خبر دی۔انہوں نے کہا: میرے باپ نے عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ مجھے بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔انہوں نے الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ کہا: عبد اللہ بن کعب بن مالک انصاری نے مجھے خبر دی۔اور یہ حضرت کعب بن مالک اُن تین أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِيْنَ تِيْبَ عَلَيْهِمْ أَنَّ آدمیوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ گئی۔کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے اُن کو بتایا بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آپ کی اس بیماری وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ میں جس میں آپ فوت ہوئے، باہر نکلے۔لوگوں فَقَالَ النَّاسُ يَا أَبَا الْحَسَنِ كَيْفَ نے پوچھا: ابو الحسن ! آج صبح رسول اللہ صلی اللہ أَصْبَحَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: الحمد للہ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللهِ بَارِنَّا آج صبح اچھے ہیں۔یہ سن کر حضرت عباس بن بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عبد المطلب نے اُن کا ہاتھ پکڑا اور اُن سے کہنے لگے: اللہ کی قسم ! تم تین دن کے بعد ڈنڈے کے فَقَالَ لَهُ أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ عَبْدُ غلام ہوگے اور میں بخدا یہ سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ الْعَصَا وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری سے عنقریب فوت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّى ہو جائیں گے۔یہ اس لئے کہ میں عبد المطلب کے مِنْ وَجَعِهِ هَذَا إِنِّي لَأَعْرِفُ وُجُوْهَ بیوں کے موت کے وقت کے چہرے پہچانتا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ ہوں۔آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ چلیں اور آپ سے پوچھ لیں کہ یہ خلافت کس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِيْمَنْ هَذَا الْأَمْرُ کے لئے ہو گی ؟ اگر تو ہمارے لئے ہوئی تو ہمیں فَأَخَذَ عَبْدُ الْعَصَا: هُوَ كِبَايَةٌ عَمَن يَصِيرُ تَابِعًا لِغَيْرِهِ وَالْمَعْتَى أَنَّهُ يَمُوتُ بَعْدَ ثَلَاپ۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۷۹)