صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 335
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۳۵ ۶۴ - کتاب المغازی لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى میرے گھر میں داخل ہوئے اور آپ کی بیماری النَّاسِ فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبِ نے آپ کو نڈھال کر دیا تھا۔آپ نے فرمایا: مجھے لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پر سات مشکیں انڈیلو کہ جن کے بندھن نہ کھولے برسات وَسَلَّمَ ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ گئے ہوں۔شاید میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔تِلْكَ الْقِرَبِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيْرُ إِلَيْنَا ہم نے آپ کو آپ کی زوجہ حضرت حفصہ کے لگن میں بٹھایا۔پھر آپ پر اُن مشکوں سے پانی ڈالتے گئے یہاں تک کہ آپ نے ہمیں اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، بس کافی ڈال دیا ہے۔بیان کرتی تھیں: پھر آپ لوگوں کے پاس باہر گئے اور نماز بِيَدِهِ أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ وَخَطَبَهُمْ۔پڑھائی اور ان سے مخاطب ہوئے۔اطرافه ١٩٨، ٦٦٤ ٦٦٥ ٦٧٩، ٦٨٢، ۶۸۳، ۶۸۷، ۷۱۲ ، ٧١٣، ٧١٦، ۲۵۸۸، ۳۰۹۹ ٣٣٨٤، ٤٤٤٥، 5714، 7303۔- ٤٤٤٣ - ٤٤٤٤ : و أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ ۴۴۴۳ - ۴۴۴۴: (زہری کہتے تھے: ) عبید اللہ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ حضرت وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم قَالَا لَمَّا نُزِلَ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ حَمِيْصَةً لَّهُ کا زور ہوا تو آپ اپنی چادر اپنے منہ پر ڈالتے۔عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ جب گھبراہٹ محسوس کرتے تو اپنے منہ سے وَجْهِهِ وَهُوَ كَذَلِكَ يَقُوْلُ لَعْنَةُ اللهِ اس کو ہٹا دیتے اور اس حالت میں آپ فرماتے: یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت اس لئے ہوئی کہ عَلَى الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُوْرَ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَدِّرُ مَا صَنَعُوا۔لیا۔جو انہوں نے کیا ہے اس سے بچنے کے لئے آپ نے تنبیہ فرمائی۔اطراف الحديث ٤٤٤٣ ٤٣٥ ، ۱۳۳۰، ۱۳۹۰، ٣٤٥۳، ٤٤٤١، ٥٨١٥۔اطراف الحديث ٤٤٤٤ : ٤٣٦، ٣٤٥٤، ٥٨١٦ -