صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 334
صحیح البخاری جلد ۹ سام سمسم ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٤٢: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ :۴۴۴۲: سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا۔انہوں قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي نے کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عقیل نے عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے روایت عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْن کی، کہا: عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بن مسعود مَسْعُوْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى نے مجھے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ جب رسول اللہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور آپ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ کی بیماری کا آپ پر سخت حملہ ہوا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت لی کہ میرے گھر میں آپ کی يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ تیار داری کی جائے تو انہوں نے آپ کو اجازت وَهُوَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي دے دی۔آپ نکلے اور آپ دو آدمیوں کے الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلِ آخَرَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ درمیان تھے۔آپ کے پاؤں زمین پر لکیریں ڈالتے جاتے تھے۔حضرت عباس بن عبد المطلہ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللهِ بِالَّذِي قَالَتْ اور ایک اور شخص کے درمیان تھے۔عبید اللہ نے عَائِشَةُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس) کو جو هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي حضرت عائشہ نے کہا تھا، بتایا تو حضرت عبد اللہ بن لَمْ تُسَمٌ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ عباس نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو ، وہ دوسرا ابْنُ عَبَّاسِ هُوَ عَلِيٌّ وَكَانَتْ عَائِشَةُ شخص کون تھا؟ جس کا حضرت عائشہ نے نام نہیں زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لید کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں۔حضرت ابن تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عباس نے کہا: وہ حضرت علی بن ابی طالب) ہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ بَيْتِي وَاشْتَدَّ بِهِ اور حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ وَجَعُهُ قَالَ هَرِيْقُوْا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبِ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صحیح بخاری کے بعض نسخوں کے مطابق یہ روایت نمبر ۴۴۴۶ کے بعد درج ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۷۶)