صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 332
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۳۲ ۶۴ - کتاب المغازی يَدَهُ أَوْ إِصْبَعَهُ ثُمَّ قَالَ فِي الرَّفِيقِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی فارغ ہی ہوئے الْأَعْلَى ثَلَاثًا ثُمَّ قَضَى وَكَانَتْ تَقُوْلُ تھے کہ آپ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا یا کہا: اپنی انگلی مَاتَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي۔اُٹھائی اور پھر تین بار فرمایا: رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔پھر آپ گزر گئے؛ اور حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں: آپ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے۔اطرافة ،۸۹۰، ۱۳۸۹، ۳۱۰۰ ، ،٣٧٧٤، ٤٤٤٦ ٤٤٤٩، ٤٤٥٠، ٤٤٥١، ٥٢١٧ ٦٥١٠ - ٤٤٣٩: حَدَّثَنِي حِبَّانُ أَخْبَرَنَا :۴۴۳۹ حبان (بن موسیٰ مروزی) نے مجھ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مبارک) نے شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ہمیں خبر دی کہ یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُوْلَ نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: عروہ نے مجھے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوَذَاتِ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے بدن پر معوذات (سورۃ الاخلاص، وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھ کر دم کرتے اور الَّذِي تُوُفِّيَ فِيْهِ طَفِقْتُ أَنْفِتُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوَّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِتُ اپنے ہاتھ کو بیماری دور کرنے کے لئے پھیرتے۔جب آپ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں کہ وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ آپ فوت ہوئے تو میں آپ پر ان معوذات کو وَسَلَّمَ عَنْهُ۔اطرافة ٥٠١٦، ٥٧٣٥، ٥٧٥١۔پڑھ کر دم کرنے لگی، جن سے آپ دم کیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ لے کر آپؐ کے بدن پر بیماری دور کرنے کے لئے پھیر تی۔٤٤٤٠: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ :۴۴۴۰ معلی بن اسد نے ہمیں بتایا کہ عبد العزیز حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ حَدَّثَنَا بن مختار نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے بخاری کے بعض نسخوں میں یہ روایت نمبر ۴۴۳۱ سے پہلے ہے۔(دیکھئے فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۲۵)