صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 331
صحیح البخاری جلد ۹ ٣٣١ ۶۴ - کتاب المغازی نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ فِي سر حضرت عائشہ کی ران پر تھا آپ پر غشی طاری الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فَقُلْتُ إِذَا لَّا يَخْتَارُنَا ہوئی۔جب آپ نے ہوش سنبھالا۔آپ نے اپنی فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حَدِيْتُهُ الَّذِي كَانَ آنکھ کو گھر کی چھت کی طرف اُٹھایا اور فرمایا: اے اللہ ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔میں نے کہا: اب يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيْحٌ۔تو آپ ہم میں رہنا پسند نہیں کریں گے۔میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو آپ ہمیں بتایا کرتے تھے جبکہ آپ تندرست تھے۔اطرافه: ٤٤٣٥ ، ٤٤٣٦ ، ٤٤٦٣، ٤٥٨٦ ٦٣٤٨ ، ٦٥٠٩- ٤٤٣٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا :۴۴۳۸) محمد بن يحي ذبلی) نے ہم سے بیان عَفَّانُ عَنْ صَحْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ عَنْ کیا کہ عفان (بن مسلم) نے ہمیں بتایا۔عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ انہوں نے صخر بن جویریہ سے، صخر نے عَائِشَةَ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عبد الرحمن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ باپ (قاسم بن محمد ) سے، انہوں نے حضرت وَسَلَّمَ وَأَنَا مُسْئِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي وَمَعَ عائشہ سے روایت کی: عبد الرحمن بن ابی بکر نبی عَبْدِ الرَّحْمَنِ سِوَاكَ رَطْبٌ يَسْتَنُ بِهِ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے آپ کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا اور عبد الرحمن کے فَأَبَدَّهُ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ پاس ایک تازہ مسواک تھی جس سے وہ مسواک کر رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فَقَضِمْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّيْتُهُ ثُمَّ دَفَعْتُهُ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ فَأَخَذْتُ السّوَاكَ اس مسواک کی طرف نگاہ کی، دیکھا۔میں نے إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مسواک لی اور اسے توڑا اور اس کو نرم کر کے پانی فَاسْتَنَّ بِهِ فَمَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ سے پاک صاف کیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنَّ اسْتِنَانًا دی اور آپ نے اس مسواک سے ایسی عمدگی سے قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ فَمَا عَدَا أَنْ فَرَغَ مسواک کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ کو ایسی عمدگی سے مسواک کرتے کبھی نہیں دیکھا۔