صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 330
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۳۰ ۶۴ - کتاب المغازی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ فِي مَرَضِهِ کو دنیا اور آخرت سے متعلق اختیار نہ دے دیا الَّذِي مَاتَ فِيْهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَةٌ يَقُوْلُ : جائے۔ تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمُ (النساء: (۷) اس بیماری میں جس میں آپ فوت ہوئے، فرماتے سنا اور آپ کی آواز بیٹھ گئی تھی۔ فرماتے تھے: ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا۔ میں سمجھی کہ آپ کو اختیار دیا گیا۔ الْآيَةَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خَيْرَ۔ اطرافه ٤٤٣٦ ، ٤٤٣٧ ، ٤٤٦٣ ، ٤٥٨٦ ، ٦٣٤٨ ، ٦٥٠٩ - ٤٤٣٦ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۴۴۳۶: مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان عَنْ سَعْدٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ ( بن ابراہیم) سے، سعد نے عروہ سے، عروہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔ فرماتی تھیں: جَعَلَ يَقُوْلُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے یعنی وہ بیماری جس میں کہ آپ فوت ہو گئے، آپ فرمانے لگے : رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔ اطرافه ٤٤٣٥ ، ٤٤٣٧ ، ٤٤٦٣ ، ٤٥٨٦، ٦٣٤٨ ، ٦٥٠٩ - ٤٤٣٧ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۴۴۳۷: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں زہری سے الزُّبَيْرِ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُوْلُ روایت کی کہ عروہ بن زبیر نے کہا: حضرت اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عائشہ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَحِيحٌ يَقُوْلُ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ جب تندرست تھے، فرمایا کرتے تھے: کبھی بھی حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُحَيَّا کوئی نبی نہیں اُٹھایا گیا جب تک کہ اس نے جنت أَوْ يُخَيَّرَ فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَہ میں اپنا ٹھکانہ نہیں دیکھ لیا۔ پھر چاہے تو ( دنیا میں ) الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِ عَائِشَةَ زندہ رکھا جائے یا اسے اختیار دیا جائے۔ جب غُشِيَ عَلَيْهِ فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ آپؐ بیمار ہوئے اور جان کنی کا وقت آیا اور آپ کا