صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 329
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۲۹ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٣٣ - ٤٤٣٤: حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ ۴۴۳۳ - ۴۴۳۴: بیرو بن صفوان بن جمیل لخمی صَفْوَانَ بْنِ جَمِيْلِ اللَّحْمِيُّ حَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عُرْوَةَ بتایا۔انہوں نے اپنے باپ (سعد بن ابراہیم) اللهُ عَنْهَا قَالَتْ سے، انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔انہوں نے کہا فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ فِي شَكْوَاهُ ک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ علیہ السلام کو اپنی اس بیماری میں بلایا جس میں آپ اُٹھائے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الَّذِي قُبِضَ فِيْهِ فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ گئے اور آپ نے اُن سے کوئی راز کی بات کی۔وہ فَبَكَتْ ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ سن کر رونے لگیں۔پھر آپ نے اُن کو بلایا اور فَضَحِكَتْ فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ اُن سے رازداری میں کچھ کہا اور وہ سن کر ہنس سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پڑیں۔ہم نے اس کی بابت پوچھا۔وہ کہتی تھیں: أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ في صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے بطور رازدار بتایا کہ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ آپ اپنی اس بیماری میں جس میں کہ آپ فوت ہوئے ، اُٹھائے جائیں گے۔یہ سن کر میں رو پڑی۔پھر آپ نے راز کی بات کی اور مجھے بتایا کہ میں آپ کے اہل بیت میں سے پہلی ہوں جو آپ سے ملوں گی اور میں یہ سن کر خوشی سے ہنس پڑی۔أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ۔اطراف الحديث ٤٤٣٣ ٣٦٢٣ ٣٦٢٥، ٣٧١٥، ٦٢٨٥ - اطراف الحديث ٤٤٣٤: ٣٦٢٤، ٣٦٢٦، ٣٧١٦، ٦٢٨٦- ٤٤٣٥ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۴۳۵ محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ سعد بن ابراہیم) سے، سعد نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ وہ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَا يَمُوْتُ نَبِيُّ حَتَّى يُخَيَّرَ فرماتی تھیں: میں سنا کرتی تھی کہ کوئی بھی بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ بي اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک کہ اس