صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 328 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 328

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۲۸ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٣٢ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۴۴۳۲: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَن عبد الرزاق بن ہمام) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الله نے کہا: معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ سے ، زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ سے، عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللهِ عبید اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت آپہنچا اور گھر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ میں کئی مرد موجود تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ هَلُمُوْا أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا فرمایا: آؤ میں تمہیں ایسی وصیت لکھ دوں کہ اس تَضِلُّوْا بَعْدَهُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ کے بعد تم نہیں بھٹکو گے۔ ان میں کسی نے کہا کہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیماری نے بے بس غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا کر دیا ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ اللہ کی كِتَابُ اللهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ کتاب ہمیں کافی ہے۔ اس پر گھر والوں میں وَاخْتَصَمُوْا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُوْلُ قَرِّبُوا اختلاف ہوا اور وہ جھگڑنے لگے۔ ان میں بعض وہ يَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ تھے جو کہتے تھے: ( کاغذ، قلم دوات ) قریب کرو وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُوْلُ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَمَّا کہ تمہیں تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو، أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالاخْتِلَافَ قَالَ اور ان میں سے بعض وہ تھے جو کچھ اور کہتے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھے۔ جب انہوں نے بحث اور جھگڑا بہت کیا تو قُوْمُوْا قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَكَانَ يَقُولُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُٹھو چلے جاؤ۔ عبید اللہ نے کہا: حضرت ابن عباس کہتے ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا تھے: مصیبت ساری کی ساری مصیبت وہی ہوئی حَالَ بَيْنَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آپس میں وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ جھگڑنے اور شور کرنے کی وجہ سے رُک گئے کہ الْكِتَابَ لِاخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ۔ آپ ان کے لئے وہ تحریر لکھتے۔ اطرافه ١١٤، ٣٠٥٣ ، ۳۱٦٨ ، ٤٤۳۱ ، ٥٦٦٩، ٧٣٦٦