صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 327 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 327

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۲۷ ۶۴ - كتاب المغازی جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ۔ ه (النصر : (۲) ابن عباس سے اس آیت سے متعلق پوچھا: اذا فَقَالَ أَجَلُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ ۔ انہوں نے کہا: رسول الله صلی تعلیم کی وفات کی خبر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ فَقَالَ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ۔ اطرافه ٣٦٢٧، ٤٢٩٤، ٤٩٦٩، ٤٩٧٠۔ صد الله بتائی ہے تو حضرت عمرؓ نے یہ سن کر کہا: میں بھی یہی اس سے سمجھتا ہوں جو تم سمجھتے ہو۔ ٤٤٣١ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۴۴۳۱ قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان احول سے، سلیمان نے سعید بن جبیر سے روایت سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس کہتے تھے: يَوْمُ الْخَمِيْسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ جمعرات کا دن تھا اور جمعرات کا دن بھی کیا تھا کہ اشْتَدَّ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جس میں رسول اللہ صلی اللہ پر آپ کی بیماری نے وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ ائْتُونِي أَكْتُبْ سخت حملہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس لاؤ کہ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں۔ جس کے بعد تم کبھی نہیں بھٹکو گے ۔ وہ لوگ آپس میں جھگڑنے فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِي نَزَاعٌ لگے حالانکہ نبی کی ایم کے پاس جھگڑنا نہیں چاہیے۔ فَقَالُوْا مَا شَأْتُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوْهُ کہنے لگے : کیا بات ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللی کم بیماری فَذَهَبُوْا يَرُدُّوْنَ عَلَيْهِ فَقَالَ دَعُوْنِي کی شدت سے کچھ فرمارہے ہیں؟ آپؐ سے پوچھو۔ فَالَّذِي أَنَا فِيْهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونَنِي چنانچہ آپ سے دوبارہ پوچھنے لگے : آپؐ نے فرمایا: إِلَيْهِ وَأَوْصَاهُمْ بِثَلَاثٍ قَالَ أَخْرِجُوا مجھے رہنے دو، میں جس حالت میں ہوں وہ بہتر ہے، اس سے جس کی طرف تم بلاتے ہو۔ آپ نے الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيرُوا اُن کو تین باتوں کی وصیت کی۔ آپؐ نے فرمایا: الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَسَكَتَ جزيره عرب سے مشرکوں کو نکال دینا اور عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَ فَنَسِيْتُهَا۔ نمائندوں کو اس طرح آنے دینا جس طرح کہ میں اُن کو آنے دیا کرتا تھا اور آپ خاموش ہو گئے۔ تیسری بات نہیں کی یا حضرت ابن عباس نے کہا: میں اس کو بھول گیا۔ اطرافه ۱۱٤ ، ۳۰۵۳، ۳۱۶۸ ، ٤٤۳۲ ، ٥٦٦٩، ٧٣٦٦ -