صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 325 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 325

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۲۵ ۶۴ - کتاب المغازی روایت نمبر ۴۴۲۵ میں کسری کی جس بیٹی کے ملکہ بنائے جانے کا ذکر ہے اس کا نام بقول ابن قتیبہ اور طبری بوران ہے اور اس کی بہن کا نام ارز میدخت ہے۔یہ دونوں اپنے بھائی شیرویہ کی موت کے بعد تخت ایران کی وارث ہوئیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۶۱) باب ۸۲ میں اس روایت کا ذکر ضمنی ہے۔اس کا تعلق عنوانِ باب سے نہیں۔تاریخ سے نہیں معلوم ہوتا کہ انہیں دعوت نامے بھیجے گئے ہوں۔اسی طرح روایت نمبر ۴۴۲۷ بھی خط کے ذکر سے خالی ہے۔ثنیۃ الوداع پر استقبال کا ذکر ہے اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور بیماری کے اثنا میں حضرت اسامہ بن زید کی مہم کی تیاری و روانگی کا ذکر ہے، جس سے ظاہر ہے کہ باب ۸۲ مستقبل کی فتوحات کے لئے بطور ایک دیباچہ کے ہے۔عنوانِ باب میں سابقہ خط و کتابت کے ذکر سے آپ کی پیشگوئی کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس کا تعلق سلطنت عجم و روم کی تباہی سے ہے۔آپ کو سرحدوں کی حفاظت کا فکر تھا۔جس کے لئے غزوہ تبوک میں بذات خود شریک ہوئے۔اپنی پیرانہ سالی اور کوفت کی کچھ پرواہ نہیں کی اور دور دراز کے سفر کی مشقتوں کو برداشت کیا۔مزید براں جبار حکومتوں کے ظلم و ستم کے چنگل میں پائمال رعایا کی نجات کا فکر بھی آپ کو تھا۔قرآن مجید میں آپ کو رَحْمَةً لِلْعلمین سے ملقب کیا گیا ہے۔آپ نے الوداع کا وقت نزدیک دیکھا تو ایام مرض میں اپنی غرض بعثت کی تکمیل کے لئے دنیا سے چلتے چلتے فتوحات کی ایک نئی طرح اپنے مبارک ہاتھوں سے ڈالی جو دُور رس نتائج پر منتج ہوئی۔باب ۸۲ کی روایتوں کا زیادہ تر تعلق مابعد کے غزوات سے ہے۔جن کا آغاز آپ کے آخری ایام میں ہوا اور تحمیل عہد خلافت میں۔بَاب ۸۳: مَرَضُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتُهُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیمار ہونا اور آپ کا وفات پانا وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى : إِنَّكَ مَيِّتَ وَ إِنَّهُمْ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: تجھے بھی مرنا ہے اور وہ ميتُونَ لا ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ عِنْدَ بھی مرنے والے ہیں۔پھر تم قیامت کے دن رَبَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ) (الزمر: ۳۱، ۳۲) اپنے رب کے سامنے آپس میں جھگڑو گے۔٤٤٢٨: وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ :۴۴۲۸: اور یونس نے زہری سے نقل کیا کہ عروہ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: عَنْهَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں جس میں کہ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ آپ فوت ہوئے، فرماتے تھے :عائشہ ! میں اب بخاری کے بعض نسخوں میں یہ روایت نمبر ۴۴۳۰ کے بعد ہے۔دیکھئے فتح الباری جزء۸ صفحہ ۱۶۴۔