صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 324
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۲۴ ۶۴ - کتاب المغازی کے اسلام قبول کرنے میں روک نہ بنے ورنہ اس کی رعایا کے گناہ کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔یہ خط قیصر کو حضرت دحیہ کلبی کے ہاتھ بھیجا گیا۔اس کا تعلق ے ہ سے ہے جب آپ کی قریش مکہ کے ساتھ میعادی صلح قرار پائی تھی۔آخری خط میں جزیہ کا مطالبہ تھا۔۔۔صحیح مسلم میں حضرت انس سے مروی ہے کہ آپ نے اس وقت کسری و قیصر اور دیگر جابر بادشاہوں کو خط لکھے۔طبرانی نے حضرت مسور بن مخرمہ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا: إِنَّ اللهَ بَعتَنِي لِلنَّاسِ كَافَّةً فَأَذُوا عَلِي وَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَى اللَّهِ عز و جل نے مجھے تمام لوگوں کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔اس لیے تم میری طرف سے پیغام پہنچاؤ ، ( اللہ تم پر رحم کرے) اور میرے متعلق اختلاف نہ کرو۔اور آپ نے حضرت عبد اللہ بن حذافہ کو کسری، حضرت سلیط بن عمرو کو ہو زہ بن علی سردار یمامہ ، حضرت علاء بن حضرمی کو مندر بن ساوی سردار هجر ، حضرت عمرو بن عاص کو جانندی سردار عمان کے بیٹوں جیفر اور عباد، حضرت دحیہ کو قیصر، حضرت شجاع بن وہب کو ابن ابی شمر عنسانی اور حضرت عمرو بن امیہ کو نجاشی کی طرف روانہ فرمایا۔یہ سب نامہ بر سوائے حضرت عمرو بن عاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے قبل مدینہ میں واپس آگئے تھے۔نجاشی جسے خط بھیجا گیا تھا ، دوسرا نجاشی تھا جو اسلام قبول کرنے والے نجاشی کا جانشین ہوا۔سیرت نگاروں نے طبرانی کی اس روایت پر یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ نے حضرت مہاجر بن ابی امیہ بن حارث بن عبد کلال اور حضرت جریر کو ذوالکلاع، حضرت سائب کو مسیلمہ اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کو مقوقس کی طرف روانہ کیا۔(فتح الباری جزء ۸، صفحہ ۱۶۰، ۱۶۱) امام ابن حجر کا خیال ہے کہ عنوان باب میں ان خطوط کی طرف اشارہ کیا گیا جو کسری و قیصر کو دوبارہ لکھے گئے تھے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۶۲) أَيَّام الجمل سے مراد وہ خانہ جنگی ہے جو خلیفہ ثالث حضرت عثمان کی شہادت کی وجہ سے مسلمانوں میں برپا ہوئی۔جب باغیوں نے مدینہ پر حملہ کر کے آپ کو شہید کیا تو وہ حج کے ایام تھے۔اکثر صحابہ حج کے لئے مکہ مکرمہ گئے ہوئے تھے۔حضرت عثمان کی شہادت کی خبر سنتے ہی اُن میں کہرام برپا ہو گیا۔حضرت طلحہ و زبیر نے حضرت عائشہ کی زیر قیادت بصرہ کی طرف کوچ کیا جہاں باغی پناہ گزین تھے۔حضرت علی کی بیعت مدینہ میں ہو چکی تھی۔خلیفہ وقت کی اجازت کے بغیر جنگ جائز نہ تھی۔آپ نے روکا مگر صحابہ و تابعین مارے غم و غیظ کے بے قابو تھے۔ان کی حضرت علی کے ساتھ مڈھ بھیٹر ہوئی۔حضرت عائشہ اپنے ہودج میں اونٹ پر سوار اپنے لشکر کی کمان فرمار ہی تھیں۔اس وجہ سے یہ واقعہ جنگ جمل کے نام سے مشہور ہوا۔جمل کے معنی اونٹ کے ہیں۔جملہ لَقَدْ نَفْعَنِي اللهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُوْلِ اللهِ لال لال ایام الْجُمَلِ - ترکیب یوں ہے : لَقَدْ نَفْعَنِي اللهُ أَيَّامَ الْجَمَلِ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ لا یعنی اللہ نے جنگ جمل کے ایام میں مجھے ایک بات سے فائدہ دیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔(مجموعه الوثائق السياسية للعهد النبوى والخلافة الراشدة ، جزء اول صفحه ۱۰۷ تا ۱۱۰) (مسلم، كتاب الجهاد والسير باب كتب النبي الى ملوك الكفار يدعوهم الى الله عز وجل)