صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 323 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 323

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۳ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٢٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۴۲۷: عبد الله بن محمد (مسندی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔السَّائِبِ أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ انہوں نے زہری سے ، زہری نے حضرت سائب الصَّبْيَانِ نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ ( بن یزید) سے روایت کی۔(انہوں نے کہا:) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ مَقْدَمَهُ مجھے یاد ہے کہ میں بھی لڑکوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے ثنیۃ الوداع تک گیا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ۔اطرافه: ٣٠٨٣، ٤٤٢٦- تھا جبکہ آپ غزوہ تبوک سے واپس آئے تھے۔رح : كِتَابُ النَّبِيَّ ﷺ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ : عنوانِ باب کے تحت جو چار روایتیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے صرف ایک روایت میں کسری کے خط کا ذکر ہے اور وہ بھی مجمل۔قیصر روم کے خط کا ذکر نہیں۔یہ نظر انداز کیوں؟ بحالیکہ قیصر روم والے خط کا ذکر شروع کتاب صحیح بخاری میں موجود ہے۔علاوہ ازیں باب کی باقی دو روایتوں میں ذکر ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو بچوں نے ثنیۃ الوداع کے پاس استقبال کیا۔جن میں خود راوی حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بھی تھے جو اُس وقت بچپن یا لڑکپن کی عمر میں تھے۔ان دونوں روایتوں کا تعلق عنوانِ باب سے کیا ہے اور جو خط نقل کیا گیا ہے اس کا تعلق خط کے نفس مضمون سے اتنا نہیں جتنا سلطنت کسری کی تباہی و بربادی کے بارے میں پیشگوئی سے ہے۔اگر خطوط کا مضمون بیان کرنا مد نظر ہوتا تو اُن کا اعادہ کیا جا سکتا تھا۔علاوہ ازیں مضمون خط میں غایت درجہ اختصار ہے۔دونوں شہنشاہوں سے خط و کتابت کا ایک ہی عنوان میں یکجا ذکر و بربادی سے متعلق حضرت ابوبکرہ کی روایت کا ضمناً اعادہ اور غزوہ تبوک سے مراجعت پر ثنیہ الوداع پر آپ کے استقبال کا تذکرہ یہ چاروں باتیں بتاتی ہیں کہ امام موصوف نے دراصل غزوات نبوی سے متعلق ابواب ختم کر دیئے ہیں اور ایک ایسے دور جدید سے متعلق ابواب قائم کرنے والے ہیں جو سلطنت کسری و قیصر کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ترتیب ابواب و تقدیم و تاخیر روایات میں یہ مخصوص اسلوب و تصرف صحیح بخاری میں جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے۔اس کی تازہ مثال ابھی باب ۷۸ کے نیچے روایت نمبر ۴۴۱۵ کے اعادہ میں گزر چکی ہے جس سے غزوہ تبوک پر ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔امام ابن حجر نے کتب مغازی و سیرت کی روایات کے حوالہ سے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں تھے تو آپ نے قیصر وغیرہ کو دوسری بار خط لکھے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۶۰) ان کے خیال کی تصدیق ان خطوط سے ہوتی ہے جو مجموعہ وثائق سیاسیہ میں ہیں۔دو خط قیصر روم کو بھیجے گئے تھے۔پہلے خط میں یہ تھا کہ وہ اپنی رعایا (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، روایت نمبر۷)