صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 322
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٢٥ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَم :۴۴۲۵ عثمان بن ہیثم نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي که عوف (اعرابی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بَكْرَةَ قَالَ لَقَدْ نَفَعَنِي اللهُ بِكَلِمَةٍ حسن (بصری) سے، حسن نے حضرت ابوبکرہ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللہ نے جنگ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الْجَمَلِ بَعْدَ مَا جمل کے ایام میں مجھے ایک بات سے فائدہ دیا جو كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَل میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی فَأَقَاتِلَ مَعَهُمْ قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُوْلَ جبکہ قریب تھا کہ میں جمل والوں سے جاملوں اور اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَهْلَ اُن کے ساتھ ہو کر لڑوں۔حضرت ابو بکرۃ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ فارس والوں نے اپنے لئے کسری کی بیٹی ملکہ شاہ بنالی ہے تو آپ نے فرمایا: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے اپنی حکومت ایک عورت فَارِسَ قَدْ مَلَّكُوْا عَلَيْهِمْ بِنْتَ كِسْرَى قَالَ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً۔طرفه: ۷۰۹۹- کے سپرد کی۔٤٤٢٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۴۴۲۶ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْري بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ يَقُوْلُ أَذْكُرُ انہوں نے کہا: میں نے زہری سے سنا۔وہ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الْغِلْمَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ حضرت سائب بن یزید سے روایت کرتے الْوَدَاع نَتَلَقَّى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ تھے ، کہتے تھے: مجھے یاد ہے کہ میں بھی لڑکوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً مَعَ کے ساتھ ثنیۃ الوداع تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے گیا تھا۔اور سفیان الصبيان۔اطرافة: ۳۰۸۳، ٤٤٢٧ - نے ایک بار (لڑکوں کی بجائے) یوں کہا: بچوں کے ساتھ۔