صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 321 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 321

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۲۱ ۶۴ - کتاب المغازی پیچھے ہٹانا چاہا۔آپ نے مجھے روک دیا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت پڑھنے لگے، لوگوں نے آپ کو دیکھا اور گھبرائے۔۔باب ۸۱ کا علیحدہ عنوان نہیں اور امام ابن حجر کے نزدیک یہ باب بطور فصل ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۵۸) غزوات نبویہ کا سلسلہ ابواب یہاں ختم ہوتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے ہی فتوحاتِ اسلامیہ کا ایک نیا باب مجاہدین اسلام کے لئے آپ کی وفات سے قبل کھولا گیا۔اس دور جدید کا آغاز اس مہم سے ہوا جو حضرت اسامہ بن زید کی زیر قیادت تیار کی گئی۔اس کا ذکر باب ۸۷ میں ہے۔اس آخری مہم کے تعلق میں آپ کی خط وکتابت کا ذکر بطور تمہید عنوان باب ۸۲ میں کیا گیا ہے جو آپ نے قیصر و کسری سے کی تھی۔ابواب غزوات کی ترتیب بالعموم صحیح تسلسل میں ہے۔باب ۸۲ كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط کسری و قیصر کی طرف ٤٤٢٤: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا :۴۴۲۴ اسحاق بن راہویہ) نے ہمیں بتایا کہ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي میرے باپ (ابراہیم بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صالح بن کیسان) سے، صالح نے عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ابن شہاب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مجھے أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عبید اللہ بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَبْدِ اللهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِي فَأَمَرَهُ عبد الله بن حذافہ سہمی کے ہاتھ اپنا خط کسری کو أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيْمِ الْبَحْرَيْنِ فَدَفَعَهُ بھیجا۔آپ نے (عبد اللہ بن حذافہ سے) فرمایا کہ عَظِيْمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا وہ خط بحرین کے حاکم کو دیں۔بحرین کے حاکم نے وہ خط کسری کو بھیج دیا۔جب اُس نے وہ خط پڑھا، قَرَأَهُ مَزَّقَهُ فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ اسے پھاڑ ڈالا۔(زہری کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ که (سعید) بن مسیب نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوْا كُلَّ مُمَزَّقٍ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایران والوں کے لئے دعا کی کہ وہ ہر طرح ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں۔اطرافه ٦٤ ٢٩٣٩، ٧٢٦٤-۔(صحیح مسلم ، کتاب الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصلى بهم اذا تأخر الامام )