صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 320
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۲۰ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٢٣ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۴۲۳ احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ حمید طویل نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالک رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ عليه وسلم غزوہ تبوک سے لوٹے اور جب مدینہ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا کے قریب پہنچے تو آپؐ نے فرمایا: مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جو بھی سفر کرتے ہو اور جس وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوْا مَعَكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ وادی کو عبور کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ۔ اطرافه ۲۸۳۸، ۲۸۳۹ الله و ہیں۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ مدینہ میں ہی رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ مدینہ میں رہتے ہیں، عذر نے اُن کو روک رکھا ہے۔ تشريح : نُزُولُ النبي صل الحجر : علاقہ حجر کسی زمانہ میں قو محمود کی بستیوں سے آباد اور پر رونق تھا اور سنت اللہ کے تحت یہ قوم برباد ہوئی۔ اس کی ہلاکت کا ذکر سورۃ الحجر (آیت (۸۴) ہے۔ باب کا عنوان ایک اختلاف کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں قیام فرمایا ہے اور معلوم ہونے پر کہ یہ ثمود کا علاقہ ہے یہاں سے کوچ فرمایا۔ باب کی دونوں روایتوں سے ظاہر ہے کہ آپ یہاں نہیں اترے بلکہ منع فرمایا ( فتح الباری، جز ۸ ، صفحہ ۱۵۷) اور وجہ بتائی اور اس علاقہ سے گزر کر دوسری جگہ قیام کیا۔ باب کا عنوان اسی اختلاف کی وجہ سے مصدر یہ رکھا گیا ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب أحاديث الأنبياء شرح باب ۱۷۔ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ : لام یہاں بمعنی عن ہے۔ حجر والوں سے متعلق صحابہ سے فرمایا: ان کے پاس نہ جاؤ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۵۷) غزوہ تبوک کے اثناء میں مذکورہ بالا علاقہ سے آپؐ کو گزرنا پڑا اس لئے اس کا ذکر ضمنا کیا گیا ہے۔ باب ۸۱ کا تعلق بھی غزوہ تبوک کے سفر سے ہے۔ روایت نمبر ۴۴۲۱ کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء روایت نمبر ۱۸۲۔ صحیح مسلم کی روایت میں تصریح ہے کہ مذکورہ بالا واقعہ غزوہ تبوک سے متعلق ہے اور اس میں حضرت مغیرہ سے یہ بھی ذکر ہے کہ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا تو دیکھا کہ لوگ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ بھی آخری رکعت میں شامل ہو گئے۔ میں نے حضرت عبد الرحمن