صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 319
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱۹ باب ۸۱ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٢١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ عَنِ :۴۴۲۱: يحي بن بکیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اللَّيْثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ليث بن سعد) سے، لیث نے عبد العزیز بن ابی عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ نَافِع بن سلمہ سے، عبد العزیز نے سعد بن ابراہیم سے، جُبَيْرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيْرَةِ عَنْ أَبِيْهِ سعد نے نافع بن جبیر سے ، نافع نے عروہ بن مغیرہ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ ذَهَبَ النَّبِيُّ سے، عروہ نے اپنے باپ حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی الی تم اپنی حاجت کے لئے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضٍ حَاجَتِهِ گئے۔میں اُٹھا کہ آپ (کے ہاتھوں) پر پانی فَقُمْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ لَا أَعْلَمُهُ ڈالوں۔میں یہی جانتا ہوں کہ حضرت مغیرہ نے إِلَّا قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوْكَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ کہا: یہ واقعہ غزوہ تبوک میں ہوا۔آپؐ نے اپنا منہ وَذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ عَلَيْهِ دھویا اور اپنے بازوؤں کو دھونے لگے تو جسے کی كُمُ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ آستین اتنی تنگ تھی کہ آپ اس کو چڑھا نہ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ۔سکے۔آپ نے بازوؤں کو جے کے نیچے سے نکال کر اُن کو دھویا پھر آپ نے پاؤں پر مسح کیا۔اطرافه ۱۸۲، ۲۰۳ ، ٢٠٦ ، ٣٦٣، ۳۸۸، ۲۹۱۸، ۵۷۹۸، ۵۷۹۹ ٤٤٢٢: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۴۴۲۲ خالد بن مخلد نے ہمیں بتایا کہ سلیمان حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو ( بن بلال) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عمرو بن يحي بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے عباس بن سہل بن سعد سَعْدِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ سے، عباس نے ابوحمید (ساعدی) سے روایت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ کی۔انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غَزْوَةِ تَبُوْكَ حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى ساتھ غزوہ تبوک سے لوٹ کر آئے۔جب مدینہ الْمَدِينَةِ قَالَ هَذِهِ طَابَةٌ وَهَذَا أُحَدٌ کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا: یہ طالبہ آن پہنچا اور یہ اُحد پہاڑ ہے۔ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ۔اطرافه: ۱٤۸۱ ، ۱۸۷۲، ۳۱۶۱، ۳۷۹۱۔اس سے محبت رکھتے ہیں۔