صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 315 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 315

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱۵ ۶۴ - کتاب المغازی سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ اس توبہ کے قبول ہونے کے عوض اپنی جائیداد قَمَرٍ وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ فَلَمَّا سے دستبردار سے دستبردار ہوتا ہوں جوا جو اللہ اور رسول اللہ کی جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ خاطر صدقہ ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی جائیداد میں سے کچھ اپنے لئے بھی رکھو إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي کیونکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا: اپنا وہ صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ قَالَ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ میں نے کہا: رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يارسول اللہ ! اللہ نے مجھے صدق کی وجہ سے نجات أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ دی اور میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں ہمیشہ لَّكَ قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي سچ ہی بولا کروں گا جب تک کہ میں زندہ رہوں گا۔ بِخَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ اللهَ کیونکہ اللہ کی قسم! میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کو سچی بات کہنے کی وجہ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي سے اس خوبی کے ساتھ آزمایا ہو، جس خوبی سے أَنْ لَّا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا مَا بَقِيْتُ میری آزمائش کی ہے، اس وقت سے کہ میں نے فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصل واقعہ بیان کیا۔ أَبْلَاهُ اللهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيْثِ مُنْذُ میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ص یہ بات بیان کی، میں نے آج تک عمد اجھوٹ نہیں أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلَانِي مَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ بولا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ آئندہ بھی جب ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ تک زندہ ہوں مجھے محفوظ رکھے گا اور اللہ نے اپنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی نازل کی: اور اللہ نبی پر اور مہاجرین اور انصار پر توبہ قبول کرتے وَإِنِّي لَأَرْجُوْ أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا ہوئے جھکا جنہوں نے تنگی کے وقت اس کی پیروی الله عل بَقِيتُ وَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ ع کی تھی، بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں سے لَقَدْ تَابَ اللهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُعْجِرِينَ ایک فریق کے دل ٹیڑھے ہو جاتے پھر بھی اس وَالْأَنْصَارِ إِلَى قَوْلِهِ وَ كُونُوا مَعَ نے ان کی توبہ قبول کی۔ یقیناوہ ان کے لیے بہت الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۷ - ۱۱۹) ہی مہربان (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔