صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 316 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 316

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱۶ ۶۴ - کتاب المغازی فَوَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ اللہ کی قسم ! اس کے بعد کہ اللہ نے مجھے اسلام کی قَطُّ بَعْدَ أَنْ هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ أَعْظَمَ ہدایت دی، کبھی بھی اُس نے کوئی انعام میرے فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي لِرَسُولِ اللهِ نزدیک اس سے بڑھ کر نہیں کیا کہ میں نے رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَّا أَكُونَ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ سچ بیان کر دیا۔ شکر ہے کہ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ میں نے آپ سے جھوٹ نہیں بولا بولا ور نہ میں ہلاک ہو جاتا جیسا کہ وہ لوگ ہلاک ہو گئے جنہوں نے كَذَبُوْا فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِلَّذِيْنَ كَذَبُوْا جھوٹ بولا تھا۔ نہایت ہی نفرت آمیز الفاظ حِيْنَ أَنْزَلَ الْوَحْيَ شَرَّ مَا قَالَ لِأَحَدٍ استعمال کئے ہیں جو اُس نے کسی کے لئے استعمال فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : سَيَحْلِفُونَ کئے ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”جب تم بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا الْقَلَبْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ فَإِنَّ اُن کی طرف لوٹو گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ کی اللهَ لَا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَسِقِينَ ) قسمیں کھائیں گے۔ اللہ ان بد عہد لوگوں سے (التوبة : ٩٦،٩٥) کبھی خوش نہیں ہو گا۔“ قَالَ كَعْبٌ وَكُنَّا تَخَلَّفْنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ اور حضرت کعب کہتے تھے : اور ہم تینوں کا فیصلہ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِيْنَ قَبِلَ مِنْهُمْ اُن لوگوں کے فیصلے سے مؤخر رکھا گیا، جن سے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر قبول کیا تھا جب حِيْنَ خَلَفُوْا لَهُ فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ انہوں نے آپ کے سامنے قسمیں کھائیں اور آپ لَهُمْ وَأَرْجَأَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نے اُن سے بیعت لی اور اُن کے لئے مغفرت کی دعا کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے وَسَلَّمَ أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ فِيهِ فیصلہ کو ملتوی کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے اس کے فَبِذَلِكَ قَالَ اللهُ: وَعَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ متعلق فیصلہ فرمایا۔ سو وہ یہی بات ہے کہ اللہ نے خُلِفُوا (التوبة: ۱۱۸) فرمایا ہے: اسی طرح اُن تینوں پر بھی (اُس نے فضل کیا) جو کہ پیچھے چھوڑے گئے تھے۔ وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللهُ مِمَّا خُلَّفْنَا عَنِ اور جو پیچھے رکھے جانے کا اللہ نے (اس میں ) ذکر الْغَزْوِ إِنَّمَا هُوَ تَخْلِيْفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ کیا ہے وہ غزوہ سے ہمارا پیچھے رہنا نہیں بلکہ اللہ کے