صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 314 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 314

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱۴ ۶۴ - کتاب المغازی صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ سوا میرے پاس اور کچھ نہ تھا اور میں نے دو اور فَكَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا بِبُشْرَاهُ وَاللهِ مَا أَمْلِكُ کپڑے عاریتاً لئے اور انہیں پہنا اور رسول اللہ صلى الله علم کے پاس چلا گیا اور لوگ مجھے فوج در فوج غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ تَوْبَيْنِ ملتے اور توبہ کی قبولیت کی وجہ سے مجھے مبارک فَلَبِسْتُهُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ دیتے تھے۔کہتے تھے : تمہیں مبارک ہو جو اللہ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَلَقَّانِي تم پر رحم کر کے توبہ قبول کی ہے۔حضرت کعب النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنُونِي بِالتَّوْبَةِ کہتے تھے۔آخر میں مسجد میں پہنچا۔کیا دیکھتا ہوں، يَقُوْلُوْنَ لِتَهْنِكَ تَوْبَةُ اللهِ عَلَيْكَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہیں، آپ کے قَالَ كَعْبٌ حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ اردگرد لوگ ہیں۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ مجھے یکھ کر میرے پاس دوڑے آئے اور مجھ سے فَإِذَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مصافحہ کیا اور مبارک دی۔مہاجرین میں سے ان وَسَلَّمَ جَالِسٌ حَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ إِلَيَّ کے سوا بخدا کوئی شخص بھی میرے پاس اُٹھ کر طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يُهَرُولُ حَتَّى نہیں آیا اور طلحہ کی یہ بات میں کبھی بھی نہیں بھولوں صَافَحَنِي وَهَنَّانِي وَاللهِ مَا قَامَ إِلَيَّ گا اور حضرت کعب کہتے تھے: جب میں نے رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرَهُ وَلَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو السلام علیکم کہا تو أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ۔قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا، تمہیں بشارت ہو نہایت ہی سَلَّمْتُ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ اچھے دن کی، ان دنوں میں سے جب سے تمہاری عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى ماں نے تمہیں جنا، تم پر گزرے ہیں۔کہتے تھے: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا یہ بشارت آپ کی مِنَ السُّرُورِ أَبْشِرُ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ آپ نے فرمایا: عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ قَالَ قُلْتُ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ ایسا روشن أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَمْ مِنْ عِنْدِ ہو جاتا کہ گویا وہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم اس سے اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَكَانَ آپ کی خوشی پہچان لیا کرتے تھے۔جب میں آپ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کے سامنے بیٹھ گیا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں