صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 313 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 313

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱۳ ۶۴ - کتاب المغازی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اس کے بعد میں دس راتیں اور ٹھہرا رہا یہاں تک اسْتَأْذَنْتُهُ فِيْهَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌ کہ ہمارے لئے پچاس راتیں اس وقت سے پوری فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ حَتَّى ہوئیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنے سے منع کیا تھا۔كَمَلَتْ لَنَا خَمْسُوْنَ لَيْلَةً مِنْ حِيْنَ جب پچاسویں رات کی صبح کو نماز فجر پڑھ چکا اور نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں اس وقت اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی وَسَلَّمَ عَنْ كَلَامِنَا فَلَمَّا صَلَّيْتُ چھت پر تھا اور میں اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس صَلَاةَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِيْنَ لَيْلَةً کا اللہ نے ذکر کیا ہے یعنی مجھ پر میری جان تنگ وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا فَبَيْنَا ہو چکی تھی اور مجھ پر زمین بھی باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہو گئی تھی۔اس اثناء میں میں نے ایک أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللهُ پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر بلند قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ آواز سے پکار رہا تھا: اے کعب بن مالک ! تمہیں عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ بشارت ہو۔میں یہ سن کر سجدہ میں گر پڑا اور سمجھ گیا صَوْتَ صَارِحٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعِ که مصیبت دور ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ نے جب آپ فجر کی نماز پڑھ چکے اعلان فرمایا کہ اللہ نے مہربانی کر کے ہماری غلطی کو معاف کر دیا أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ وَآذَنَ رَسُوْلُ اللَّهِ ہے۔یہ سن کر لوگ ہمیں خوشخبری دینے لگے اور أَبْشِرْ قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی خوشخبری صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ دینے والے گئے اور ایک شخص میرے پاس گھوڑا عَلَيْنَا حِيْنَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ بھگائے ہوئے آیا اور اسلم قبیلہ کا ایک شخص دوڑا آیا فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُوْنَنَا وَذَهَبَ قِبَل اور پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کی آواز گھوڑے سے مُبَشِّرُوْنَ وَرَكَضَ إِلَيَّ رَجُلٌ زیادہ جلدی پہنچنے والی زیادہ جلدی پہنچنے والی تھی۔جب وہ شخص میرے فَرَسًا وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَى پاس بشارت دینے آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی، میں نے اس کے لئے اپنے دونوں کپڑے صَاحِبَيَّ عَلَى الْجَبَلِ وَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ اُتارے اور اس کو پہنائے۔اس لئے کہ اُس نے مِنَ الْفَرَسِ فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ مجھے بشارت دی تھی۔اللہ کی قسم ! اس وقت ان کے