صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 312
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱۲ ۶۴ - کتاب المغازی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيْنِي فَقَالَ کہ رسول اللہ صلی علیم کا پیغام لانے والا میرے پاس إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آرہا ہے۔ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ فَقُلْتُ سے فرماتے ہیں کہ اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ۔ میں نے پوچھا: کیا میں اُسے طلاق دے دوں یا کیا أُطَلِقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لَا بَل کروں؟ اس نے کہا: اس سے الگ رہو اور اُس کے اعْتَزِلْهَا وَلَا تَقْرَبْهَا وَأَرْسَلَ إِلَى قریب نہ جاؤ۔ آپ نے میرے دونوں ساتھیوں صَاحِبَيَّ مِثْلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي کو بھی ایسا ہی کہلا بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَتَكُوْنِي عِنْدَهُمْ حَتَّى اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور اُس وقت تک يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الْأَمْرِ۔ قَالَ انہی کے پاس رہنا کہ اللہ اس معاملہ میں کوئی فیصلہ کرے۔ حضرت کعب کہتے تھے : پھر ہلال بن امیہ كَعْبٌ فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہنے لگی: یا رسول اللہ ! ہلال بن امیہ بہت بوڑھا فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ هِلَالَ بْنَ ہے، اس کا کوئی نوکر نہیں۔ کیا آپ ناپسند فرمائیں أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَهَلْ گے، اگر میں اس کی خدمت کروں؟ آپ نے تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ لَّا فرمایا: نہیں۔ لیکن تمہارے قریب نہ ہو۔ کہنے لگی: يَقْرَبُكِ قَالَتْ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ اللہ کی قسم! اس کو تو کسی بات کی تحریک نہیں ہوتی۔ اللہ کی قسم ! وہ اس دن سے آج تک رو رہا ہے جب إِلَى شَيْءٍ وَاللَّهِ مَا زَالَ يَبْكِي مُنْذُ سے اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے۔ میرے بعض كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا رشتہ داروں نے مجھ سے کہا: اگر تم بھی رسول اللہ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي لَوِ اسْتَأْذَنْتَ صلى اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی کے متعلق ویسے ہی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اجازت لے لو جیسا کہ آپؐ نے ہلال بن امیہ کی بیوی کو اُس کی خدمت کرنے کی اجازت دی ہے۔ امْرَأَتِكَ كَمَا أَذِنَ لِامْرَأَةِ هِلَالِ بْنِ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو رسول اللہ صلی اللہ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا علیہ وسلم سے کبھی اس بارے میں اجازت نہ لوں اور أَسْتَأْذِنُ فِيْهَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ مجھے کیا معلوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيْنِي مَا يَقُوْلُ بارے میں کیا جواب دیں اور میں جوان آدمی ہوں ۔