صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 311
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ کا جواب تک نہ دیا۔میں نے کہا: ابو قتادہ! میں تم وَهُوَ ابْنُ عَمِي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں؟ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ وہ خاموش رہے۔پھر اُن سے پوچھا اور اُن کو قسم دی السَّلَامَ فَقُلْتُ يَا أَبَا قَتَادَةَ أَنْشُدُكَ عمر وہ خاموش رہے۔پھر اُن سے پوچھا اور اُن کو بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُنِي أُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ قسم دی تو انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر فَسَكَتَ فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ فَسَكَتَ جانتے ہیں۔(یہ سن کر ) میری آنکھوں سے آنسو فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ فَقَالَ اللهُ وَرَسُوْلُهُ جاری ہو گئے۔میں نے پیٹھ موڑ کر دیوار پھاندی أَعْلَمُ فَفَاضَتْ عَيْنَايَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى اور وہاں سے چلا آیا۔) حضرت کعب کہتے تھے: اس اثناء میں کہ میں مدینہ کے بازار میں چلا جارہا تھا تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا کیا دیکھتا ہوں کہ اہل شام کے نبطیوں سے ایک نبطی أَمْشِي بِسُوْقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ اُن لوگوں میں سے ہے جو مدینہ میں غلہ لے کر أَنْبَاطِ أَهْلِ الشَّأْمِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ بیچنے کے لئے آئے تھے وہ کہہ رہا تھا: کعب بن مالک يَبِيْعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُوْلُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى کا کون بتائے گا؟ یہ سن کر لوگ اس کو اشارہ سے كَعْبِ بْنِ مَالِكِ فَطَفِقَ النَّاسُ بتانے لگے۔جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے نسان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط مجھے دیا۔يُشِيْرُوْنَ لَهُ حَتَّى إِذَا جَاءَنِي دَفَعَ اس میں یہ مضمون تھا: اما بعد مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ إِلَيَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ فَإِذَا فِيْهِ تمہارے ساتھی نے تمہارے ساتھ سختی کا معاملہ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ کر کے تمہیں الگ تھلگ چھوڑ دیا ہے اور تمہیں تو قَدْ جَفَاكَ وَلَمْ يَجْعَلُكَ اللهُ بِدَارِ الله نے کسی ایسے گھر میں پیدا نہیں کیا تھا جہاں هَوَانٍ وَلَا مَضْيَعَةٍ فَالْحَقِّ بِنَا نُوَاسِكَ وَلِت ہو اور تمہیں ضائع کر دیا جائے۔تم ہم سے فَقُلْتُ لَمَّا قَرَأْتُهَا وَهَذَا أَيْضًا مِنَ اگر ملو، ہم تمہاری خاطر مدارت کریں گے۔جب میں نے یہ خط پڑھا۔میں نے کہا: یہ بھی مصیبتوں الْبَلَاءِ فَتَيَمَّمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهُ کی ایک مصیبت ہے۔میں وہ خط لے کر تنور کی بهَا حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُوْنَ لَيْلَةً طرف گیا اور اس میں جھونک دیا۔جب پچاس مِنَ الْخَمْسِيْنَ إِذَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللَّهِ راتوں میں سے چالیس راتیں گزریں، کیا دیکھتا ہوں