صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 310 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 310

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْن قَدْ نے ان دونوں کا مجھ سے ذکر کیا تو میں چلا گیا اور شَهِدَا بَدْرًا فِيْهِمَا أُسْوَةً فَمَضَيْتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے حِيْنَ ذَكَرُوْهُمَا لِي وَنَهَى رَسُوْلُ اللَّهِ بات چیت کرنے سے منع کر دیا یعنی ان میں سے جو اُن لوگوں میں سے تھے جو آپ سے پیچھے رہ گئے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِيْنَ عَنْ تھے ، لوگ کترانے لگے گویا کہ ہم سے بالکل نا آشنا كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ ہیں۔یہاں تک کہ یہ زمین بھی مجھے اوپری نظر تَخَلَّفَ عَنْهُ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَتَغَيَّرُوا آنے لگی، وہ نہ تھی جس کو میں جانتا تھا۔ہم اس لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ فِي نَفْسِي الْأَرْضُ حالت پر پچاس راتیں رہے۔میرے جو ساتھی تھے فَمَا هِيَ الَّتِي أَعْرِفُ فَلَبِثْنَا عَلَى وہ تو رہ گئے اور اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونے لگے اور میں اُن لوگوں میں سے زیادہ جوان تھا اور اُن ذَلِكَ خَمْسِيْنَ لَيْلَةً فَأَمَّا صَاحِبَايَ لوگوں سے مصیبت کو زیادہ برداشت کرنے والا تھا۔فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَنْكِيَانِ میں باہر نکلتا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ شریک ہوتا اور بازاروں میں پھرتا، مگر مجھ سے کوئی فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ بات نہ کرتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس الْمُسْلِمِيْنَ وَأَطُوْفُ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا بھی جاتا، آپ کو السلام علیکم کہتا جبکہ آپ نماز کے يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ وَآتِي رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى بعد اپنی جگہ بیٹھے ہوتے اور اپنے دل میں کہتا: کیا آپ نے مجھے سلام کا جواب دینے میں اپنے ہونٹ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ لائے یا نہیں؟ اور آپ کے قریب ہو کر نماز پڑھتا فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَأَقُولُ فِي اور نظر چرا کر آپ کو دیکھتا اور جب میں نماز پڑھنے نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَةِ السَّلَامِ لگتا، آپ میری طرف دیکھتے، اور جب میں آپ کی عَلَيَّ أَمْ لَا ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيْبًا مِنْهُ طرف توجہ کرتا تو آپ مجھ سے منہ پھیر لیتے۔یہاں فَأَسَارِقُهُ النَّظَرَ فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى تک کہ لوگوں کی یہ درشتی دیر تک رہنے سے مجھے پر دو بھر ہوگئی تو میں چلا گیا اور ابو قتادہ کے باغ کی صَلَاتِي أَقْبَلَ إِلَيَّ وَإِذَا الْتَفَتُ نَحْوَهُ دیوار پر چڑھ گیا۔یہ میرے چچا کے بیٹے تھے اور أَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ مُجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے تھے۔میں نے ذَلِكَ مِنْ جَفْوَةِ النَّاسِ مَشَيْتُ حَتَّى اُن کو السلام علیکم کہا۔اللہ کی قسم ! انہوں نے سلام