صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 309
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۰۹ ۶۴ - کتاب المغازی أَنْ يُسْخِطَكَ عَلَيَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ کی امید رکھوں گا۔ نہیں، اللہ کی قسم ! میرے لئے حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيْهِ إِنِّي کوئی عذر نہیں تھا۔ اللہ کی قسم! میں بھی بھی ایسا تنومند اور آسودہ حال نہیں ہوا، جتنا کہ اس وقت لَأَرْجُو فِيْهِ عَفْوَ اللَّهِ لَا وَاللَّهِ مَا كَانَ آپ سے پیچھے رہ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ مَا كُنتُ قَطُّ تھا جب آپ لِي مِنْ عُذْرٍ وَاللهِ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اس نے تو سچ بیان کر دیا أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِيْنَ تَخَلَّفْتُ ہے۔ اُٹھو جاؤ یہاں تک کہ اللہ تمہارے متعلق کوئی عَنْكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ فیصلہ کرے۔ میں اُٹھ کر چلا گیا اور بنو سلمہ میں سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ بعض لوگ بھی اُٹھ کر میرے پیچھے ہو لئے۔ انہوں حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيْكَ فَقُمْتُ وَثَارَ نے مجھے کہا: اللہ کی قسم ہمیں علم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی قصور کیا ہو اور تم یہ بھی نہ کر سکے کہ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُوْنِي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی بہانہ ہی فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ بناتے جبکہ ان پیچھے رہنے والوں نے آپ کے صد أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا وَلَقَدْ عَجَزْتَ سامنے بنائے۔ رسول الله صل الله علم الْمُتَخَلَّفُوْنَ قَدْ كَانَ كَافِيَكَ ذَنْبَكَ صلی العلم کا تمہارے لئے أَنْ لَّا تَكُوْنَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللهِ مغفرت کی دعا کر دینا ہی تمہارے اس گناہ بخشا نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ إِلَيْهِ کے لئے کافی تھا۔ اللہ کی قسم! یہ لوگ مجھے ملامت ہی کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلا دوں۔ اسْتِغْفَارُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پھر میں نے اُن سے پوچھا: کیا کوئی میرے ساتھ وَسَلَّمَ لَكَ فَوَاللَّهِ مَا زَالُوْا يُؤَنِّبُوْنَنِي اور بھی ہے جس نے آپ سے اس قسم کا اقرار کیا ہو؟ حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبَ انہوں نے کہا: ہاں۔ دو اور شخص ہیں، ان دو س ہیں، انہوں نے نَفْسِي ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ هَلْ لَقِيَ هَذَا بھی وہی کہا ہے جو تم نے کہا ہے اور اُن کو بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کون ہیں؟ کہنے لگے : مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال مَعِي أَحَدٌ قَالُوْا نَعَمْ رَجُلَانِ قَالَا مِثْلَ مَا قُلْتَ فَقِيلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ بن امیہ واقفی۔ انہوں نے مجھ سے ایسے دو نیک فَقُلْتُ مَنْ هُمَا قَالُوا مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شریک ہو چکے تھے۔ الْعَمْرِيُّ وَهِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ ان دونوں میں (میرے لیے ) نمونہ تھا۔ جب لوگوں