صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 308
صحیح البخاری جلد ۹ ٣٠٨ ۶۴ - کتاب المغازی زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ نے آپ سے سچ سچ بیان کرنے کی ٹھان لی اور أَخْرُجَ مِنْهُ أَبَدًا بِشَيْءٍ فِيْهِ كَذِبٌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ وَأَصْبَحَ رَسُوْلُ اللَّهِ جب آپ کسی سفر سے آتے پہلے مسجد میں جاتے، اس میں دو رکعتیں پڑھتے۔پھر لوگوں سے ملنے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَادِمًا وَكَانَ کے لئے بیٹھ جاتے۔جب آپ نے یہ کیا تو پیچھے إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ رہے ہوئے لوگ آپ کے پاس آگئے اور لگے فَيَرْكَعُ فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ آپ سے معذرتیں کرنے اور قسمیں کھانے اور فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ ایسے لوگ اسی سے کچھ اوپر تھے۔رسول اللہ صلی علیکم فَطَفِقُوْا يَعْتَذِرُوْنَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُوْنَ لَهُ نے اُن سے ان کے ظاہری عذر مان لئے اور اُن سے بیعت لی اور اُن کے لئے مغفرت کی دعا کی وَكَانُوْا بِضْعَةٌ وَثَمَانِيْنَ رَجُلًا فَقَبِلَ اور اُن کا اندرونہ اللہ کے سپرد کیا۔پھر میں آپ ـهُمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے پاس آیا۔جب میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ ناراض شخص کی طرح مسکرائے۔پھر آپ نے فرمایا: لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللهِ فَجِئْتُهُ آگے آؤ۔میں چل کر آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔آپ نے مجھے پوچھا: کس بات نے تمہیں پیچھے الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ تَعَالَ فَجِئْتُ رکھا؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی ؟ میں نے فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں ایسا ہوں کہ اگر آپ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ کے سوا دنیا کے لوگوں میں سے کسی اور کے پاس لِي مَا خَلْفَكَ أَلَمْ تَكُنْ قَدِ ابْتَعْتَ بیٹھا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ میں ضرور ہی اس کی ظَهْرَكَ فَقُلْتُ بَلَى إِنِّي وَاللهِ لَوْ ناراضگی سے عذر کر کے بچ جاتا۔مجھے خوش بیانی جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا دی گئی ہے۔مگر اللہ کی قسم! میں خوب سمجھ چکا ہوں اگر میں نے آج آپ سے کوئی ایسی جھوٹی بات بیان لَرَأَيْتُ أَنْ سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُدْرٍ کی جس سے آپ مجھ پر راضی ہو جائیں تو اللہ وَلَقَدْ أُعْطِيْتُ جَدَلًا وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عنقریب مجھ پر آپ کو ناراض کر دے گا اور اگر یہ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ آپ سے سچی بات بیان کروں گا جس کی وجہ سے كَذِبٍ تَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشِكَنَّ الله آپ مجھ پر ناراض ہوں تو میں اس میں اللہ کے عفو