صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 307 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 307

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی نکلتا اور ان میں چکر لگاتا تومجھے یہ بات عمگین کر دیتی أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ وَلَيْتَنِي فَعَلْتُ فَلَمْ کوچ کروں اور ان کو پالوں اور کاش کہ میں ایسا کرتا يُقَدَّرْ لِي ذَلِكَ فَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ مگر مجھ سے یہ بھی مقدر نہ ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد جب بھی میں لوگوں میں فِي النَّاسِ بَعْدَ حُرُوْجِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْتُ فِيْهِمْ کہ میں ایسے ہی شخص دیکھتا جن پر نفاق کا عیب دھرا أَحْزَنَنِي أَنِّي لَا أَرَى إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوْصًا جاتا تھا، یا کمزوروں میں سے ایسا شخص جس کو اللہ عَلَيْهِ النِّفَاقُ أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَ الله نے معذور شہر ایا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الضُّعَفَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُوْلُ اللهِ نے بھی مجھے اس وقت یاد کیا جب آپ تبوک میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ ہے۔آپ نے فرمایا اور اس وقت آپ تبوک میں پہنچے لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے، کعب کہاں ہے؟ تَبُوكَ فَقَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بنوسلمہ میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اس بِتَبُوْكَ مَا فَعَلَ كَعْبٌ فَقَالَ رَجُلٌ کو اس کی دو چادروں نے اور اس کے اپنے دائیں مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يَا رَسُوْلَ اللهِ حَبَسَهُ بائیں مُڑ کر دیکھنے نے روک رکھا ہے۔حضرت معاذ بُرْدَاهُ وَنَظَرُهُ فِي عِطْفِهِ فَقَالَ مُعَاذُ بن جبل نے یہ سن کر کہا: کیا ہی بُری بات ہے جو تم بْنُ جَبَلٍ بِئْسَ مَا قُلْتَ وَاللهِ يَا نے کی ہے؟ اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! اس کے متعلق ہمیں اچھا ہی تجربہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلَ اللهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا یہ سن کر خاموش ہو گئے۔حضرت کعب بن مالک فَسَكَتَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہتے تھے: جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ آپ واپس آرہے وَسَلَّمَ۔قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ فَلَمَّا ہیں، مجھے فکر ہوئی اور میں جھوٹی باتیں سوچنے لگا کہ بَلَغَنِي أَنَّهُ تَوَجَّهَ قَافِلًا حَضَرَنِي هَمِّي کس بات سے کل آپ کی ناراضگی سے بچ جاؤں وَطَفِقْتُ أَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ اور اپنے گھر والوں میں ہر ایک اہل رائے سے میں بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا نے اس بارے میں مشورہ لیا۔جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے میرے دل سے وَاسْتَعَنْتُ عَلَى ذَلِكَ بِكُلّ ذِي رَأْيِ سارے جھوٹے خیالات کا فور ہو گئے اور میں نے مِنْ أَهْلِي فَلَمَّا قِيْلَ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ سمجھ لیا میں کبھی بھی آپ کے غصہ سے ایسی بات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا سے بچنے کا نہیں جس میں جھوٹ ہو۔اس لئے میں