صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 306
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيْدُ وَالْمُسْلِمُوْنَ مَعَ رسول الله صلی علیم کے ساتھ بکثرت تھے اور محفوظ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رکھنے والی کوئی کتاب نہ تھی جو اُن کی تعداد کو ضبط كَثِيرٌ وَلَا يَجْمَعُهُمْ كِتَابٌ حَافِظٌ میں رہتی۔حضرت کعب کی مراد اس سے رجسٹر تھا۔حضرت کعب کہتے تھے : اور کوئی شخص بھی ایسا نہ تھا يُرِيدُ الدِيْوَانَ قَالَ كَعْبٌ فَمَا رَجُلٌ جو غیر حاضر رہنا چاہتا ہو، مگر وہ خیال کرتا کہ اس کا يُرِيْدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ إِلَّا ظَنَّ أَنْ سَيَخْفَى غیر حاضر رہنا آپ سے پوشیدہ رہے گا، جب تک کہ لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيْهِ وَحْيِ اللهِ وَغَزَا اس سے متعلق اللہ کی وحی نازل نہ ہو، اور رسول اللہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ا ل روم نے یہ غزوہ اس وقت کیا کہ جب پھل پک یم چکے تھے اور سائے اچھے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِيْنَ طَابَتِ القِمَارُ وَالظَّلَالُ وَتَجَهَّزَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى علیہ وسلم نے سفر کی تیاری شروع کر دی اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی۔اور میں صبح کو جانتا، تا میں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُوْنَ مَعَهُ بھی اُن کے ساتھ سامان سفر کی تیاری کروں۔میں فَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَيْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ واپس لوٹتا اور کچھ بھی نہ کیا ہوتا۔میں اپنے دل میں فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا فَأَقُولُ فِي کہتا کہ میں تیاری کر سکتا ہوں۔یہ خیال مجھے لیت ولعل نَفْسِي أَنَا قَادِرٌ عَلَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ میں رکھتا رہا یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ لوگوں کو يَتَمَادَى بِي حَتَّى اشْتَدَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ سر کی جلدی پڑی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح روانہ ہو گئے اور مسلمان بھی آپ کے ساتھ فَأَصْبَحَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روانہ ہوئے اور میں نے اپنے سامانِ سفر کی تیاری وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُوْنَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ میں سے کچھ بھی نہ نپٹایا تھا۔میں نے سوچا کہ آپ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا فَقُلْتُ أَتَجَهَّرُ بَعْدَهُ کے جانے کے ایک دن یا دو دن بعد تیاری کرلوں بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَغَدَوْتُ گا اور پھر اُن سے جاملوں گا۔ان کے چلے جانے بَعْدَ أَنْ فَصَلُّوْا لِأَتَجَهَّرَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ کے بعد دوسری صبح باہر گیا کہ سامان تیار کر لوں مگر پھر واپس آگیا اور کچھ بھی نہ کیا۔پھر میں اگلے دن أَقْضِ شَيْئًا ثُمَّ غَدَوْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ گیا اور واپس لوٹ آیا اور کچھ بھی نہ نپٹایا اور یہی وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى حال رہا یہاں تک کہ تیزی سے سفر کرتے ہوئے أَسْرَعُوْا وَتَفَارَطَ الْغَزْرُ وَهَمَمْتُ أَنْ لشکر بہت آگے نکل گیا۔میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ