صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 305 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 305

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۰۵ ۶۴ - کتاب المغازی إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ غزوۂ تبوک کے۔ہاں غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ تھا اور آپ نے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا إِنَّمَا خَرَجَ رَسُوْلُ تھا جو اس جنگ سے پیچھے رہ گیا تھا۔رسول اللہ کی الیم صرف قریش کے قافلہ کو روکنے کے ارادے سے کم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيْدُ عِيْرَ نکلے تھے مگر نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بغیر اس کے کہ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ جنگ کی ٹھانی ہو اُن کو دشمن سے ٹکرا دیا اور میں عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيْعَادٍ وَلَقَدْ رسول الله صلى اللی ریم کے ساتھ عقبہ کی رات میں بھی شَهِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ موجود تھا۔جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِيْنَ تَوَاثَقْنَا عبد و پیمان کیا تھا اور میں نہیں چاہتا کہ اس رات کے عوض مجھے بدر میں شریک ہونے کی توفیق ملتی۔عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا اگرچہ بدر لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے اور مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ میری حالت یہ تھی کہ میں کبھی بھی اتناتنومند اور فِي النَّاسِ مِنْهَا كَانَ مِنْ خَبَرِي أَنِّي خوشحال نہیں تھا جتنا کہ اس وقت جبکہ میں آپ سے لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ حِيْنَ اِس غزوہ میں پیچھے رہ گیا۔اللہ کی قسم ! اس سے پہلے تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ وَاللهِ مَا کبھی بھی میرے پاس اونٹ اکٹھے نہیں ہوئے اور اجْتَمَعَتْ عِنْدِي قَبْلَهُ رَاحِلَتَانِ قَطُّ اس غزوہ کے اثناء میں دو اونٹ اکٹھے کر لئے تھے اور رسول اللہ صلی الل علم جس غزوہ کا بھی ارادہ کرتے حَتَّى جَمَعْتُهُمَا فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ وَلَمْ تھے تو آپ اس کو مخفی رکھ کر کسی اور طرف جانے کا يَكُنْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اظہار کرتے تھے۔جب وہ غزوہ ہوا تو نبی صلی الیکم وَسَلَّمَ يُرِيْدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا اس غزوہ میں سخت گرمی کے وقت نکلے اور آپ حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ غَزَاهَا کے سامنے دور دراز کا سفر اور غیر آباد بیابان اور دشمن تھا جو بہت بڑی تعداد میں تھا۔آپ نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مسلمانوں کو اُن کی حالت کھول کر بیان کر دی تا کہ حَرِّ شَدِيدِ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وہ اپنے اس حملہ کے لئے جو تیاری کرنے کا حق وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِيْنَ ہے تیاری کریں۔آپ نے اُن کو اس جہت کا بھی أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهْبُوا أَهْبَةَ غَزْوِهِمْ فَأَخْبَرَهُمْ بتا دیا جس طرف آپ جانا چاہتے تھے اور مسلمان