صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 304
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی فقرہ آؤئی اعمالی سے یہی مراد ہے اور اسی وجہ سے حضرت یعلی بن امیہ کی روایت نقل کی گئی ہے اور اس سے یہ ذہن نشین کرانا بھی مقصود معلوم ہوتا ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے گھر نہ پہنچتے اور اسے مدینہ میں آنے کا موقع دیتے تو یہ بات ایسے ہی تھی جیسے کوئی اپنا ہاتھ کسی کے منہ میں ڈالے اور اسے دانتوں تلے چبانے کی اجازت دے۔یہ روایت در اصل جواب ہے ان لوگوں کے اعتراض کا جو یہ کہتے ہیں کہ آپ کی یہ مہم یونہی تھی۔ضرور تیس چالیس ہزار لوگوں کو اتنے دور کے سفر اور نا گفتہ بہ مشقت کا تختہ مشق بنایا۔یہ عمل دوراندیشی اور حسن لیاقت کے خلاف تھا۔یہی وہ اعتراض ہے جو منافقین مدینہ نے کیا تھا اور اس جنگ سے عام ضرورت کا بہانہ کر کے مدینہ میں رہ گئے تھے۔اس اعتراض کا جواب حضرت یعلی کی روایت سے دیا گیا ہے۔سورۃ توبہ میں غزوہ تبوک کی تفصیلات سے متعلق ذکر ہے۔دورانِ قیام تبوک میں علاقہ اذرح اور ایکہ کی طرف سے وفد آئے اور جزیہ کی ادائیگی پر ان کے ساتھ صلح قرار پائی۔(فتح الباری شرح باب ۷۹ ، جزء ۸ صفحہ ۱۴۶) اس مہم سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ سرحدیں محفوظ ہوگئیں۔باب ۷۹: حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ حضرت کعب بن مالک کا واقعہ وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَعَلَى الثَّلَثَةِ اور اللہ عزوجل کا فرمانا: ان تین شخصوں پر جو پیچھے الذِينَ خُلِفُوا (التوبة: ١١٨)۔رکھے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ وَكَانَ قَائِدَ ٤٤١٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۴۴۱۸: يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن عَبْدِ عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ عَبَدَ اللَّهِ عبد الرحمن بن عبد اللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ عبد اللہ بن کعب بن مالک اور وہ ان کے بیٹوں میں سے حضرت کعب کو جب وہ نابینا ہو گئے كَعْبِ مِنْ بَنِيْهِ حِيْنَ عَمِيَ قَالَ پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكِ يُحَدِّثُ نے حضرت کعب بن مالک کو وہ واقعہ بیان کرتے حِيْنَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّةِ تَبُوكَ قَالَ نا جبکہ وہ پیچھے رہ گئے تھے یعنی تبوک کا واقعہ۔كَعْبٌ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ حضرت کعب نے کہا: میں رسول اللہ صلی الظلم سے کسی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَرَاهَا غزوہ میں بھی پیچھے نہیں رہا جو آپ نے کیا ہو ، سوائے