صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 303 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 303

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی مقرر ہوئے تھے۔۔مگر صحیح بخاری کی روایت نمبر ۴۴۱۶ کے مطابق حضرت علی کو آپ نے امیر مقرر کیا اور فرمایا: أَلَا تَرْضَى أَن تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي - اس ارشاد کا تعلق حضرت علی کی ذات سے ہے کہ آپ میرے بعد اسی طرح نائب ہوں گے جس طرح حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایام غیر حاضری میں نائب تھے۔اس فرق کے ساتھ کہ حضرت ہارون نبی تھے اور میری عدم موجودگی میں نیابت کرنے والا نبی نہیں، ایک نگران ہے اور یہ نہایت قابل عزت ہے۔جنگ میں شریک نہ ہونے کا افسوس نہیں ہونا چاہیے۔آپ کا یہ ارشاد خاص وقت، مقام اور ایک فرد کے ساتھ مخصوص ہے۔اس کا تعلق اس مسئلہ کے ساتھ نہیں کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو سکتا ہے یا نہیں۔بغدِی سے مراد یہاں مدینہ سے آپ کی غیر حاضری ہے نہ آپ کے فوت ہونے کے بعد ابد الاباد کا زمانہ۔ہر لفظ کا مفہوم سیاق کلام سے متعین ہوتا ہے نہ خیالی پرواز سے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔حضرت علی کو خدا بنانے والوں نے خدا بھی بنا دیا ہے۔اسی قسم کی خیالی وسعت پرواز کا انسداد آپ کے اس مذکورہ بالا فقرے میں موجود ہے، جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کرتے ہوئے حضرت ہارون علیہ السلام سے مشابہت دی۔اس فقرہ سے خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ وہ نبی تھے ، حضرت علی بھی ان کی طرح نبی ہوں گے۔إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِی صرف اس خیال کا تدارک فرمایا گیا ہے۔یہ موضوع کلام مسئلہ نبوت نہ تھا۔اس کے لئے دیکھئے کتاب المناقب شرح باب ۲۵: عَلَامَاتُ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ: یہ حوالہ اس غرض سے دیا گیا ہے کہ روایت مذکورہ معنعن نہیں بلکہ سماعی ہے۔حکم راوی نے مصعب بن سعد سے مذکورہ بالا حدیث نبوی خود سن کر روایت کی۔روایت نمبر۴۴۱۷ سے ظاہر ہے کہ صحابہ غزوہ تبوک میں شمولیت بوجہ مشقت بہت بڑا کار ثواب سمجھتے تھے۔تبوک میں جنگ نہیں ہوئی۔دشمن کو غزوہ موتہ میں کاری ضرب لگ چکی تھی اور اسے صحابہ کرام کی نبرد آزمائی کا تلخ تجربہ ہو چکا تھا جبکہ ان کی تعداد کم تھی۔آپ کے لشکر جرار کی اطلاع پا کر اسے میدان جنگ کی طرف بڑھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔غزوہ تبوک ان سلسلہ غزوات کی ایک کڑی ہے جن سے نصرت بالرعب کی شرح ہوتی ہے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب القیم روایت نمبر ۳۳۵۔عمل کی قدر و منزلت جد و جہد اور اس کی محنت کی نسبت سے ہے جو اس کے لئے برداشت کی جاتی ہے۔لڑائی نہ ہونے کے باوجود حضرت یعلی بن امیہ کا قول تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ أَعْمَالِي عِنْدِی بالکل درست ہے اور ان کے اس قول سے اس مشقت کا بھی ایک حد تک اندازہ کیا جاسکتا ہے، جس کی وجہ سے غزوہ تبوک غزوۃ الحسرة کے نام سے مشہور ہے۔مجاہدین اسلام نے شدت گرمی اور بھوک پیاس اور بعید مسافت کی پرواہ نہیں کی اور دنیوی کاروبار بالائے طاق رکھتے ہوئے اس صبر آزما تلخ امتحان میں بھی پورے اترے۔الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله تبوك، جزء ۲ صفحه (۱۲۵) (مسند أبي داؤد الطیالسی، احادیث سعد بن ابی وقاص، جزء اول صفحه ۱۷۰)