صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 25 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 25

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۵ ۶۴ - کتاب المغازی فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله نے کہا: اسماء عمیس کی بیٹی۔حضرت عمر نے کہا: واہ ! عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ یہ حبشہ سے لوٹنے والی ہے، سمندر کا سفر کر کے كَلَّا وَاللَّهِ كُنتُمْ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ا آنے والی۔اسماھ بولیں : ہاں۔حضرت عمر نے کہا: ہم تم سے پہلے ہجرت کر کے آئے ہیں، اس لئے يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا رسول اللہ صلی للی کمر پر ہمارا زیادہ حق ہے۔( یہ سن کر ) فِي دَارٍ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ وہ ناراض ہو گئیں اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! ہرگز بِالْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللهِ وَفِي رَسُولِهِ نہیں۔تم لوگ رسول اللہ صل اللی علم کے ساتھ تھے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَايْمُ اللهِ لَا آنحضور صلى ا ل ت م تم میں سے بھوکے کو کھلاتے اور أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى جاہل کو وعظ کرتے اور ہم اجنبی دشمنوں کے گھر میں یا أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ (کہا) ملک میں یعنی حبشہ میں تھے اور یہ ہمارا قیام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ اللہ اور اس کے رسول صلی الم کی خاطر تھا۔اللہ کی قسم ! میں کھانا نہیں کھاؤں گی اور نہ پانی پیوں گی وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ جب تک کہ جو بات آپ نے کہی ہے وہ رسول اللہ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ وَاللَّهِ لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيعُ عَلیم سے کہہ لوں اور ہمیں تو دکھ دیا جاتا تھا اور وَلَا أَزِيدُ عَلَيْهِ۔أطرافة: ۳۱۳۶ ، ۳۸۷۶ ، ۴۲۳۳ خوف کا سامنا رہتا اور نبی صلی اللی کام سے میں یہ ذکر ضرور کروں گی اور آپ سے پوچھوں گی۔اللہ کی قسم! جھوٹ نہ بولوں گی اور نہ ادھر اُدھر کی بات کہوں گی اور نہ اپنی طرف سے کچھ بڑھاؤں گی۔٤٢٣١: فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ ۴۲۳۱: جب نبی کی ایم آئے، حضرت اسما کہنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ لگیں: اللہ کے نبی! عمر نے ایسا ایسا کہا ہے۔آپ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَمَا قُلْت لَهُ نے پوچھا: تم نے کیا جواب دیا؟ حضرت اسماء نے کہا: میں نے ان سے ایسا ایسا کہا ہے۔آپ نے قَالَتْ قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ لَيْسَ فرمایا: مجھ پر تم سے بڑھ کر کسی کا حق نہیں اور عمر کی بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ اور عمرؓ کے ساتھیوں کی تو ایک ہی ہجرت ہے اور وَاحِدَةٌ وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ تم یعنی جہاز والوں کی دو ہجرتیں ہیں۔حضرت اسمائے