صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 302
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی ہر قل خو د حمص میں تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولیڈ کی قیادت میں چار سو میں اسپ سوار کا دستہ فوج اکیدر بن عبد الملک سردار کندہ کی طرف بھیجا جو دومۃ الجندل میں تھا اور عیسائی مذہب تھا۔چاندنی رات میں شکار کھیلنے کے لئے اپنے بھائی حسان کے ساتھ نکلا اور اس کی حضرت خالد بن ولیڈ کے دستہ سے مڈھ بھیڑ ہو گئی۔اس معرکے میں اکیدر قید اور حسان قتل ہو گیا اور اس کے باقی ساتھی بھاگ گئے۔حضرت خالد نے اکیدر کو پناہ دی۔دومۃ الجندل فتح ہونے پر وہاں کے باشندوں کے ساتھ دو ہزار مہار اونٹ، آٹھ سو افراد، چار سو زر ہیں اور چار سو نیزوں کے معاوضہ میں جنگی اخراجات پر صلح ہوئی۔اموالِ غنیمت حسب قواعد تقسیم کئے گئے اور حضرت خالد اکیدر اور اس کے بھائی مصاد کے ساتھ مدینہ کو لوٹے۔آپ نے جزیہ کی ادائیگی پر اس سے صلح کی اور اسے تحفے تحائف دے کر باعزت و اکرام اپنے علاقے میں واپس جانے کی اجازت دی اور صلح نامہ تحریر ہوا۔مذکورہ بالا معر کے کے سوا تبوک میں اور معرکہ نہیں ہوا۔یہ خلاصہ ہے طبقات ابن سعد کی روایت کا۔لے رمضان 9ھ میں آپ مدینہ منورہ کو واپس ہوئے جو پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے معافی طلب کی اور اپنے اپنے عذر حلفیہ بیان کئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرمایا اور ان کے لئے دعا کی اور استغفار سے نوازا، بجز تین شخصوں کے جنہیں مقاطعہ کی سزا دی اور آخر ایک تلخ امتحان کے بعد اُن کی معافی کا وحی نازل ہونے پر اعلان ہوا۔جس کا ذکر سورۃ التوبہ کی آیت وَ عَلَى الثَّلَثَةِ الذِيْنَ خَلِفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحْبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لا مَنْجَا مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَابُ الرَّحِيمُ (التوبة: ۱۱۸) ترجمہ : اسی طرح ان تینوں پر بھی (اس نے فضل کیا) جو کہ پیچھے چھوڑے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین باوجود فراخی کے اُن پر تنگ ہو گئی اور ان کے اپنے نفس بھی ان پر بار بن گئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اللہ کے غضب سے بچنے کے لیے سوائے اس کے اور کوئی پناہ نہیں تو اُن کی حالت دیکھ کر اللہ نے ان پر فضل کیا تاکہ وہ بھی تو بہ کریں۔اللہ یقیناً بار بار توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حضرت کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھیوں کے مقاطعہ کا مفصل ذکر اگلے باب میں ہے۔اس باب میں تین روایتیں ہیں، پہلی روایت (نمبر ۴۴۱۵) میں سواری کا مطالبہ کرنے، دوسری روایت نمبر ۴۴۱۶) میں حضرت علی کی مدینہ میں نیابت، تیسری روایت نمبر۴۴۱۷) میں دو شخصوں کے لڑنے کا واقعہ مذکور ہے۔غزوہ تبوک کے حالات کی اس سے زیادہ تفصیل صحیح بخاری کے اس باب میں نہیں۔قرآن مجید کی محولہ بالا آیت میں ذکر ہے۔طبقات ابن سعد کے اور ابو داؤد طیالسی کے حوالہ سے ہی اس غزوہ کا مختصر ذکر کیا ہے۔اس تعلق میں بعض روایتیں واقدی وغیرہ کی بھی ہیں جو پا یہ اعتبار سے ساقط ہیں اور اسی وجہ سے امام بخاری نے نظر انداز کی ہیں۔طبقات ابن سعد کے بیان کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر حاضری میں حضرت محمد بن مسلمہ امیر مدینہ الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول اللہ ﷺ تبوك، جزء ۲ صفحه ۱۲۶،۱۲۵)