صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 301
۳۰۱ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی کرنے والا ہے۔اس آیت کے بعد ان تین صحابہ کا بھی ذکر ہے جو پیچھے رہ گئے تھے اور پھر مقاطعہ سے ان کی نہایت بڑی آزمائش ہوئی جس میں وہ کامیاب ہو گئے اور انہیں معاف کیا گیا۔اگلے باب میں اس آزمائش کا بھی ذکر ہے۔غزوہ تبوک حجتہ الوداع سے قبل ماہ رجب 9ھ میں ہوا تھا۔امام ابن حجر کے نزدیک صحیح بخاری کے کاتبوں سے غلطی ہوئی ہے جو اس سے متعلق باب کو حجتہ الوداع کے بعد رکھا ہے۔تاریخ وقوع سے متعلق سب کو اتفاق ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۳۸) ابن سعد کے نزدیک بھی یہی تاریخ ہے۔لے اور اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا کہ رومی مدینہ پر حملہ کی غرض سے بہت بڑا لشکر شام میں تیار کر رہے ہیں اور ہر قل نے ایک سال کی خوراک فوج کو مہیا کی اور قبائل تخم، جذام، عاملہ اور غسان کو ساز و سامان سے لیس کر کے انہیں بطور مقدمۃ الجیش بلقاء کی طرف روانہ کیا ہے۔یہ اطلاع ملنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کوچ کا اعلان فرمایا اور مکہ اور قبائل عرب کو پیغام بھیجا کہ وہ تیار ہو کر آئیں اور اپنے علاقہ کے اموال زکوۃ لا ئیں۔کمزور طبع لوگوں نے پیچھے رہنے کی اجازت طلب کی جو دی گئی۔کیس علی الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضى (التوبة: (۹) بعض بدوی لوگوں نے معذوری کا اظہار کیا جس کا ذکر آیت وَ جَاءَ الْمُعَذِرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ ( التوبة ۹۰) یہ عبد اللہ بن ابی کے ساتھیوں میں سے تھے ، جس نے شنیتہ الوداع کے پاس اپنا لشکر گاہ قائم کیا۔اس کے ساتھ علاوہ کمزور ایمان لوگوں کے یہودی حلیف بھی تھے۔ایسے لوگوں کی تعداد بھی خاصی تھی لیکن مخلص صحابہ میں سے ایسے بھی تھے جو کسی نہ کسی معذوری کی وجہ سے بغیر سواری سفر نہ کر سکنے اور سواری مہیانہ ہونے پر وہ زارو نزار تھے اور بحاءُونَ (رونے والے) کے نام سے تاریخ اسلامی میں مشہور ہیں۔ان کا ذکر سورۃ التوبہ کی آیت وَ لا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوكَ لِتَحْمِلَهُمُ قلت لا أجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعَ حَزَنًا اَلَا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ (التوبة: ٩٢) اور نہ ان لوگوں پر (کوئی الزام ہے ) جو تیرے پاس اس وقت آئے جب جنگ کا اعلان کیا گیا تھا۔اس لیے کہ تو ان کو کوئی سواری مہیا کر دے۔تو تو نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تمہیں سوار کراؤں اور (یہ جواب سن کر وہ چلے گئے اور (اس) غم سے اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کہ افسوس اُن کے پاس کچھ نہیں جسے (خدا کی راہ میں) خرچ کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی غیر حاضری میں محمد بن مسلمہ کو مدینہ منورہ کا امیر مقرر فرمایا۔بوقت کوچ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی پیچھے رہ گئے اور آپ کے ساتھ نہیں گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کو قبیلہ وار تقسیم کر کے ہر دستہ فوج کو پرچم سے ممتاز کیا۔اسلامی لشکر بقول ابن سعد تیس ہزار پیادہ اور دس ہزار سوار سپہ پر مشتمل تھا۔تبوک، مدینہ و دمشق کے درمیان کا رروانی راستے پر واقع ہے۔چودہ منزل کا سفر تھا جو چودہ دن میں طے ہوئے۔حضرت ابوذر غفاری اور حضرت ابو خیثمہ سالمی جو مدینہ میں رہ گئے تھے وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آملے۔آپ نے تبوک میں بقول ابن سعد نہیں دن قیام فرمایا۔الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول اللہ ﷺ تبوك، جزء ۲ صفحه ۱۲۵)