صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 300 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 300

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۰۰ ۶۴ - کتاب المغازی فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَصَّ أَحَدُهُمَا يَدَ صفوان نے بتایا۔حضرت یعلی کہتے تھے : میرا ایک الْآخَرِ قَالَ عَطَاءٌ فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي نوکر بھی تھا جو ایک شخص سے لڑ پڑا تو ان میں سے صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَ الْآخَرَ فَنَسِيتُهُ ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا۔قَالَ فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوْضُ يَدَهُ مِنْ فِي عطاء نے کہا: صفوان نے یہ بھی مجھے بتایا تھا کہ ان الْعَاضِ فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ فَأَتَيَا دونوں میں سے کس نے دوسرے کو کاٹا، مگر میں یہ بھول گیا۔کہتے تھے : جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے اپنے ہاتھ کو کاٹنے والے کے منہ سے جھٹکا ثَنِيَّتَهُ قَالَ عَطَاءٌ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ دے کر جو چھوڑا یا تو اس نے اس کے اگلے دو النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ فِي فَحْلِ يَقْضَمُهَا۔قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دانتوں میں سے ایک دانت نکال دیا۔اس پر وہ أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيْكَ تَقْضَمُهَا كَأَنَّهَا دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے اس کے دانت کی کوئی دیت نہ دلوائی۔عطاء نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ صفوان نے یہ بھی کہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں رہنے دیتا کہ تم اس کو چباتے؛ گویادہ سانڈ کے منہ میں ہے جو چبا ڈالتا۔اطرافة: ١٨٤٧، ۲۲٦٥ ، ۲۹۷۳، ٦۸۹۳- ح : غَزْوَةُ تَبُوكَ وَهِيَ غَزْوَةُ الْعُسْرَةِ: عنوان باب میں الفاظ وَهِيَ غَزُوَةُ الْعُسْرَةِ سے سورة التوبہ کی آیت لَقَد ثَابَ اللهُ عَلَى النَّبِي وَ المُهجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُودُ فِي سَاعَةِ و الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيخُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ } (التوبة: ۱۱۷) کی طرف اشارہ ہے جس میں غزوہ تبوک کا ذکر تکلیف کی گھڑی کے نام سے کیا گیا ہے۔سواری کی قلت، پا پیادہ اور دور کا سفر، گرمی کی شدت، بھوک اور پیاس، خوراک اور پانی کی قلت، فصل کی کٹائی کا وقت اور قومی اور کثیر التعداد و شمن کا مقابلہ ، ان سب باتوں نے اس غزوہ کی تکلیف وہ شدت میں اضافہ کر دیا تھا۔جس کی وجہ سے بعض کو ابتلاء آیا۔آیت میں ان صحابہ کو سراہا گیا ہے جنہوں نے اس شدت تکلیف کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔تابَ عَلَيْهِمْ کے معنی ان پر رجوع بر حمت ہوا۔ساری آیت کا ترجمہ یہ ہے: اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان مهاجرین و انصار کو یقیناً رحمت سے نوازا جنہوں نے تکلیف کی گھڑی میں جبکہ ان میں سے ایک فریق قریب تھا کہ دل برداشتہ ہو جائے، نبی کی اتباع کی۔پھر اللہ نے کمزوروں پر بھی فضل کیا۔یقینا وہ اُن پر بہت ہی مہربان اور بار بار رحم