صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 296
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۹۶ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤١٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۴۴۱۴ عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ مَّالِكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيْدٍ عَنْ نے مالک سے، مالک نے يجي بن سعید سے ، يجي عَدِي بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بن يَزِيدَ نے عدی بن ثابت سے ، عدی نے عبد اللہ بن سے، الْخَطْمِي أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ يزيد خطمی سے روایت کی کہ حضرت ابوایوب صَلَّى مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ( خالد بن زید انصاری) نے ان کو خبر دی کہ انہوں وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کیں۔وَالْعِشَاءَ جَمِيْعًا۔طرفه: ١٦٧٤- تشریح : حَجَّةُ الْوَدَاع: امام بخاری نے حجتہ الوداع کے لئے سفر بھی مغازی ہی کا حصہ شمار کیا ہے کیونکہ بعثت نبوی کی غرض و غایت جہاد کے ذریعہ سے پایہ تکمیل کو پہنچی اور حجۃ الوداع میں اس کا اعلان ہوا۔آپ کا یہ فریضہ حج حجتہ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔رسول اکرم کی یہ کام ہجرت کے بعد دس سال زندہ رہے اور آپ نے اس سے قبل ایام ہجرت میں حج نہیں کیا۔کی زندگی میں ہجرت سے قبل آپ کو حج کرنے کے بار بار موقعے ملے جیسا کہ امام ابن اثیر نے النھایہ میں اور امام ابن جوزی وغیرہ نے اس بارہ میں تصریح کی ہے اور حاکم نے بھی صحیح سند سے امام ثوری کی روایت نقل کی ہے کہ آپ نے ہجرت سے قبل بھی بج کئے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۳۰) مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ حج مشروع تھے ؟ سورۃ الحج مدنی سورتوں میں سے ہے سے جس میں احکام حج نازل ہوئے اور آپ کا اور صحابہ کر اہم کا حج ان احکام کے تحت تھا۔اعلانِ حج پر صحابہ رضوان اللہ علیہم دور و نزدیک سے بکثرت اس میں شامل ہوئے کہ آپ کی اقتدا میں فریضہ حج ادا کیا جائے اور اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مجاہدین نے يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفواجا کی پیشگوئی کا خوشکن نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔آپ اس حج کے لئے ۲۴ یا ۲۵ ذی القعدہ کو ہفتہ کے روز مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور ۴ ذوالحج کی صبح یک شنبہ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، جیسا کہ اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے اور حضرت عائشہ اور حضرت جابر کی روایت سے بھی یہی تاریخ ثابت ہوتی ہے۔آٹھ روز میں سفر طے کیا۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۳۰) اس باب کے تحت شمار میں ہیں روایتیں ہیں جو امام ابن حجر نے بوجہ تکرار سترہ محسوب کی ہیں۔ان میں سے اکثر کتاب الحج وغیرہ میں گزر چکی ہیں۔كشف المشكل من حديث الصحيحين من مسند أبي أيوب الأنصارى، جزء ۲ صفحه (۸۶) (المستدرك على الصحيحين للحاكم، كتاب المغازی والسرايا، جزء۳ صفحه (۵۶) (فتح القدير، تفسير سورة الحج، جزء ۳ صفحه ۵۱۳) (فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب الحج، باب وجوب الحج، جزء ۳ صفحه ۴۷۷)