صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 294
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۹۴ ۶۴ - کتاب المغازی نے فرمایا: تمہیں پیچھے ہر گز نہیں رہنے دیا جائے عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ کا بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔میں بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةَ وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى نے کہا: یارسول اللہ ! کیا میں اپنے ساتھیوں کے يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُوْنَ چلے جانے کے بعد پیچھے رہنے دیا جاؤں گا؟ آپ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا گا۔اگر رہیں بھی تو جو کام بھی تم ایسا کرو گے کہ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنِ الْبَائِسُ جس سے تم اللہ کی رضامندی چاہو گے تو ضرور سَعْدُ بْنُ حَوْلَةَ رَقَى لَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ اس کام سے درجہ اور بلندی میں بڑھو گے اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ۔شاید کہ تم دنیا میں کچھ دیر اور رہو کہ تمہارے ذریعہ بعض لوگ نفع حاصل کریں اور بعض کو تمہارے ذریعہ نقصان پہنچایا جائے۔اے اللہ ! میرے ساتھیوں کے لئے ان کی ہجرت کو آخر تک پورا کر اور ان کو ان کی ایڑھیوں کے بل واپس نہ کر لیکن مسکین سعد بن خولہ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے افسوس کیا کرتے تھے کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے۔أطرافه: ٥٦، ۱۲۹٥، ٢٧٤۲، ٢٧٤٤، ٣٩٣٦، ٥٦٥٩،٥٣٥٤، ٥٦٦٨، ٦٣٧٣، ٦٧٣٣ - ٤٤١٠ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۴۴۱۰ ابراہیم بن منذر (حرمی) نے مجھے بتایا حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ که ابو ضمره (انس بن عیاض) نے ہم سے بیان عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ کیا کہ موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حَجَّةِ الْوَدَاع اطرافه: ١٧٢٦ ، ٤٤١١ - نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا۔٤٤١١ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ۴۴۱۱: عبید اللہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْج محمد بن بکر نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہم سے