صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 291 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 291

صحیح البخاری جلد ۹ فَسَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا فَلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ ٢٩١ ۶۴ - کتاب المغازی وَأَعْرَاضَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ نے کہا: جی ہاں۔آپ نے فرمایا: تو پھر تمہارے يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي خون اور تمہارے مال محمد بن سیرین) نے کہا: شَهْرِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ اور میں سمجھتا ہوں آپ نے یہ بھی فرمایا: تمہاری آبروئیں، تمہارے لئے اسی طرح معزز ہیں جس طرح یہ تمہارا دن تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینہ میں معزز ہے۔تم اپنے رب سے ضرور رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلِّغُهُ أَنْ يَكُوْنَ باز پرس کرے گا۔دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ نہ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ فَكَانَ ہو جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن زنی مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُوْلُ صَدَقَ مُحَمَّدٌ کرتا رہے۔دیکھو سنو! جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَلَا پہنچا دے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جن کو پہنچایا جائے، ان میں سے کوئی سننے والے سے اس بات کو زیادہ سمجھنے والا اور یاد رکھنے والا ہو۔محمد بن سیرین) جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو کہتے: حضرت هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ)۔محمد صلی الم نے سچ فرمایا۔پھر اس کے بعد آپ نے دو دفعه فرمایا: دیکھو سنو! کیا میں نے (تمہیں) پہنچا دیا ہے؟ أطرافه: ٦٧ ١٠٥، ۱۷٤١، ۳۱۹۷، ٤٦٦۲، ٥٥٥٠، ٧٠٧٨، ٧٤٤٧- ٤٤٠٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۴۴۰۷ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْن بیان کیا کہ سفیان ثوری نے ہمیں بتایا۔انہوں مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ أُنَاسًا نے قیس بن مسلم سے ، قیس نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں مِنَ الْيَهُوْدِ قَالُوْا لَوْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نے کہا: اگر یہ آیت ہم میں نازل ہوتی تو ہم اس فِيْنَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيْدًا فَقَالَ دن کو عید مناتے۔حضرت عمر نے پوچھا: کونسی عُمَرُ أَيَّةُ آيَةٍ فَقَالُوْا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ آیت ہے ؟ انہوں نے کہا: آج میں نے تمہارے