صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 285
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۸۵ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٩٨: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۴۳۹۸ ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا مُوْسَی کہ انس بن عیاض نے ہمیں خبر دی کہ موسیٰ بن بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ عقبہ نے ہمیں بتایا۔نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے ان کو خبر دی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ رحم اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيُّ زوجہ حضرت حفصہ نے ان کو بتایا کہ جس سال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَةٌ جتہ الوداع ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے فرمایا کہ وہ احرام کھول ڈالیں۔حضرت حفصہ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَتْ نے پوچھا: آپ کو احرام کھولنے سے کیا روک حَفْصَةُ فَمَا يَمْنَعُكَ فَقَالَ لَبَّدْتُ ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَسْتُ أَحِلُّ کو جمالیا تھا اور اپنی قربانی کو ہار ڈال دیا تھا۔اس لئے جب تک میں اپنی قربانی ذبح نہ کر لوں احرام حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي۔أطرافه: ١٥٦٦، ١٦٩٧، ١٧٢٥، ٥٩١٦ - نہیں کھول سکتا۔٤٣٩٩: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۴۳۹۹ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَ۔نے کہا: شعیب نے زہری سے روایت کرتے عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً مِّنْ خَثْعَمَ ہوئے ہمیں بتایا۔وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوْسُفَ حَدَّثَنَا اور محمد بن یوسف (فریابی) نے کہا کہ اوزاعی نے الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ابن شہاب نے مجھے بتایا۔انہوں نے سلیمان بن یسار سے ، سلیمان نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حجۃ الوداع میں ختم قبیلہ کی ایک عورت نے اسْتَفْتَتْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا اور فضل وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ بن عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار عَبَّاسٍ رَدِيْفُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ تھے۔وہ کہنے لگی : یارسول اللہ! اللہ کا یہ فرض اپنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ بندوں پر ایسے وقت میں ہوا کہ اس وقت میرا باپ