صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 284 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 284

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۸۴ ۶۴ - کتاب المغازی أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے اس قول سے: پھر ان کو حلال ہونے کی جگہ أَصْحَابَهُ أَنْ يَحِلُّوْا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ پر قدیم گھر کے پاس لے جانا ہو گا، اور نبی صلی اللہ قُلْتُ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّف علیہ وسلم کے اس حکم سے جو آپ نے اپنے صحابہ کو حجۃ الوداع میں دیا کہ وہ احرام کھول ڈالیں۔ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَاهُ قَبْلُ وَبَعْدُ۔ ( ابن جریج کہتے ہیں : میں نے کہا: یہ تو اس وقت تھا جب عرفات میں ٹھہر چکے تھے۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس اس کو پہلے بھی اور بعد بھی جائز سمجھتے تھے۔ ٤٣٩٧: حَدَّثَنِي بَيَانٌ حَدَّثَنَا النَّضْرُ ۴۳۹۷ بیان (بن عمرو) نے مجھے بتایا کہ نفر أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ (بن شمیل) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے طَارِقًا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِي ہمیں بتایا۔ انہوں نے قیس (بن مسلم) سے، انہوں نے کہا: میں نے طارق سے سنا۔ وہ حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ تھے کہ انہوں نے کہا: میں بطحاء میں نبی صلی اللہ أَحَجَجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم نے حج أَهْلَلْتَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَاهْلَالِ کی نیت کی ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرمایا: تم نے احرام باندھتے ہوئے کیا پکارا تھا؟ قَالَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ میں نے کہا: رسول اللہ صلی علیم کی پکار کی طرح ہی ثُمَّ حِلَّ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا پکارتے ہوئے میں تیرے حضور حاضر ہو رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کا وَالْمَرْوَةِ وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ طواف کرنا پھر اس کے بعد احرام کھول ڈالنا۔ فَفَلَتْ رَأْسِي۔ چنانچہ میں نے بیت اللہ کے ارد گرد اور صفا و مروہ میں چکر لگائے اور قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اور اس نے میرے بال صاف کیے۔ أطرافه : ۱۵۵۹ ، ١٥٦٥، ١٧٢٤، ١٧٩٥، ٤٣٤٦۔