صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 284
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے اس قول سے: پھر ان کو حلال ہونے کی جگہ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحِلُّوْا فِي حَجَّةِ الْوَدَاع پر قدیم گھر کے پاس لے جانا ہو گا، اور نبی صلی اللہ قُلْتُ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفُ عِلیہ وسلم کے اس حکم سے جو آپ نے اپنے صحابہ کو حجتہ الوداع میں دیا کہ وہ احرام کھول ڈالیں۔قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَاهُ قَبْلُ وَبَعْدُ۔ابن جریج کہتے ہیں: میں نے کہا: یہ تو اس وقت تھا جب عرفات میں ٹھہر چکے تھے۔انہوں نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ کہا: حضرت ابن عباس اس کو پہلے بھی اور بعد بھی جائز سمجھتے تھے۔٤٣٩٧: حَدَّثَنِي بَيَانٌ حَدَّثَنَا النَّضْرُ ۴۳۹۷ بیان ( بن عمرو) نے مجھے بتایا کہ نفر أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ (بن شمیل) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے طَارِقًا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ہمیں بتایا۔انہوں نے قیس (بن مسلم) سے، انہوں نے کہا: میں نے طارق سے سنا۔وہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: میں بطحاء میں نبی صلی اللہ أَحَجَجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ نے پوچھا: کیا تم نے حج أَهْلَلْتَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔آپ نے رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرمایا: تم نے احرام باند ھتے ہوئے کیا پکارا تھا؟ قَالَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ میں نے کہا: رسول اللہ صل الی یکم کی پکار کی طرح ہی ثُمَّ حِلَّ فَطْفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا پکارتے ہوئے میں تیرے حضور حاضر ہو رہا وَالْمَرْوَةِ وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ ہوں۔آپ نے فرمایا: بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کا طواف کرنا پھر اس کے بعد احرام کھول ڈالنا۔چنانچہ میں نے بیت اللہ کے اردگر د اور صفا و مروہ میں چکر لگائے اور قیس کی ایک عورت کے پاس فَفَلَتْ رَأْسِي۔آیا اور اس نے میرے بال صاف کیے۔أطرافه : ١٥٥٩، ١٥٦٥، ١٧٢٤، ١٧٩٥، ٤٣٤٦۔