صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 283 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 283

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۸۳ ۶۴ - کتاب المغازی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْقُضِي شکوہ کیا۔آپ نے فرمایا: تم اپنے سر کو کھولو اور رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِي بِالْحَج کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھو اور عمرہ کو رہنے وَدَعِي الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا دو۔میں نے ایسا ہی کیا۔جب ہم حج ادا کر چکے تو الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبد الرحمن بن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الى بکر صدیق کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا۔میں بَكْرِ الصِّدِّيقِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ نے وہاں سے عمرہ ادا کیا۔آپ نے فرمایا: یہ عمرہ فَقَالَ هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ قَالَتْ تمہارے اس عمرہ کے بدلے میں ہے۔کہتی فَطَافَ الَّذِيْنَ أَهَلُوْا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ تھیں: وہ لوگ جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ کے ارد گرد بھی چکر لگائے وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوْا ثُمَّ۔طَافُوْا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَّجَعُوْا اور صفا و مروہ کے درمیان بھی۔پھر انہوں نے احرام کھول ڈالا۔پھر اس کے بعد انہوں نے مِنِّى وَأَمَّا الَّذِيْنَ جَمَعُوا الْحَجَّ ایک اور طواف کیا جبکہ وہ منی سے کوٹے اور وہ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کی اکٹھی نیت کی تھی انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔اطرافة ،۲۹٤ ، ۳۰۰ ۳۱٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، ۱۵۱۶، ١٥۱۸، ١٥٥٦، ١٥٦٠ ١٥٦١، ١٥٦٢، ،١٧٨٦ ،۱۷۸۳ ، ۱۷۷۲ ،۱۷۷۱ ، ۱۷۶۲ ،۱۷۵۷ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،١٦٣٨، ١٦٥٠ -۷۲۲۹ ، ٢٩٨٤ ، ٤٤٠١، ٤٤٠٨ ، ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩ ٦١٥٧ ، ۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ٤٣٩٦ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِي :۴٣٩٦: عمرو بن علی (فلاس) نے مجھ سے بیان حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ کیا کہ یحی بن سعید نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عطاء بن ابی رباح) نے مجھے بتایا کہ حضرت ابن عباس سے روایت عَبَّاسِ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَرَّ ہے کہ جب انہوں نے بیت اللہ کا طواف کر لیا تو فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ قَالَ هَذَا ابْنُ عَبَّاس وہ آزاد ہو گئے۔( ابن جریج) کہتے ہیں: میں نے قَالَ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ثُمَّ مَحِلُّهَا (عطاء سے) پوچھا: حضرت ابن عباس نے یہ مسئلہ إلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ (الحج: (٣٤) وَمِنْ کہاں سے استنباط کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ