صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 281 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 281

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۸۱ ۶۴ - کتاب المغازی قِصَّةُ وَفْدِ طَبِي وَحَدِيثُ عَدِي بْنِ حَاتِمٍ : قبیلہ کے مشہور قبائل میں سے ہے۔حاتم طائی اور امرؤ القیس اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔عدی عیسائی مذہب رکھتے تھے اسلام کو سوچ سمجھ کر قبول کیا اور اپنے اخلاص میں قابل رشک نمونہ رکھتے تھے۔جیسا کہ روایت نمبر ۴۳۹۴ میں حضرت عمر کی شہادت سے ظاہر ہے۔صحیح مسلم میں حضرت عمر اللہ کے یہ الفاظ منقول ہیں: عَنْ عَدِي بْنِ حَاتِمٍ قَالَ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الله و الْخَطَابِ فَقَالَ لِي إِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ يَتَضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ لا وَ وُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَهُ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ال حضرت عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: پہلا صدقہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علم کے چہرے اور آپ کے صحابہ کے چہروں کو خوش کر دیا، وہ کلے (قبیلہ ) کا صدقہ تھا، جو آپ رسول اللہ صلی مینیم کے پاس لائے تھے۔مسند احمد بن حنبل میں بھی یہی روایت ہے اور اس میں مزید یہ ہے: عَنْ عَدِي بْنِ حَاتِمٍ قَالَ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ فِي أُنَاسِ مِنْ قَوْمِي فَجَعَلَ يَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَيْ فِي أَلْفَيْنَ وَيُعْرِضُ عَنِى قَالَ فَاسْتَقْبَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِي۔۔۔۔فَقُلْتُ يَا آمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَعْرِفُني حضرت عدی بن حاتم نے بیان کیا : میں حضرت عمر بن خطاب ﷺ کے پاس اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ آیا تو آپ کے قبیلہ کے ایک آدمی کو دو دو ہزار دینے لگے اور مجھ سے اعراض کیا۔کہتے ہیں: پھر میں آپ کے سامنے آیا تو پھر آپ نے مجھ سے اعراض کیا۔میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ اس کے بعد مندرجہ بالا روایت صحیح بخاری کی ہے۔وفد کے کے عنوان سے اس قبیلے کے تمرد اور حضرت علی اور حضرت خالد رضی اللہ عنہما کی سرکردگی میں مہم کی روانگی کا ذکر بھی ہے جو غزوہ بنی کلے کے اسباب سے بیان کیا گیا ہے کہ زید الخیل بن مہلہل کی قیادت میں اس قبیلے کے پندرہ شخص آئے اور اسلام میں داخل ہوئے۔ان کے لئے ایک معاہدہ تحریر ہوا۔آپ نے زید الخیل کا نام زید الخیر رکھا اور انہیں جاگیر عطا کی اور ہر شخص کو پانچ اوقیہ چاندی اور سامان خوراک دیا۔جب زید الخیل بخار سے راستے ہی میں فوت ہو گئے تو ان کی بیوی نے جو آبائی مذہب پر تھی، غم و غصہ میں معاہدہ چاک کر دیا اور قبیلے کو بغاوت پر اکسایا۔جس کی وجہ سے مہم بھیجی گئی اور کلے قبیلے کا بت خانہ جو فلس میں تھا، مسمار کیا گیا۔عدی بن حاتم شکست کھانے پر شام کی طرف بھاگ گئے۔قیدیوں کے ساتھ حاتم کی بیٹی بھی مدینہ میں آئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حال دریافت کرنے پر اُس نے کہا: هَلَكَ الْوَالِدُ وَغَابَ الْوَافِدُ - والد ہلاک ہو گیا اور آنے والا غائب ہے۔والد و وافد سے متعلق دریافت فرمایا تو اس نے کہا: حاتم بن عدی۔آپ نے اسے آزاد کیا اور انعام و اکرام کے ساتھ وہ اپنے وطن کی طرف روانہ ہوئی اور ملک شام میں پہنچی۔اس سے واقعہ سننے کے بعد اس کے مشورے پر حضرت عدی مدینہ میں آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے گھر لے گئے۔گاؤ تکیہ کی جگہ بیٹھایا اور انہیں اسلام کی تعلیم سے (صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابة ، باب من فضائل غفار وأسلم وجهينة واشجع۔۔۔) (مسند احمد بن حنبل، مسند العشرة المبشرين بالجنة، مسند عمر بن الخطاب، جزء اول صفحه ۴۵)