صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 280
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۸۰ ۶۴ - کتاب المغازی لطیف ارشاد بھی نقل کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن از بیبر کے یہ عرض کرنے پر کہ اُن کو قوم دوس میں سطوت و مرتبہ حاصل ہے انہیں ان کا امیر مقرر کر دیں۔آپ نے فرمایا: يَا آخَا دَوسِ اِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُوْدُ غَرِيبًا فَمَنْ صَدَّقَ الله نَجَا وَمَنْ آلَ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ هَلَكَ، إِنَّ أَعْظَمَ قَوْمِكَ ثَوَابًا أَعْظَمُهُمْ صِدْقًا وَيُوْشِكُ الْحَقُّ أَن يَغْلِبَ الْبَاطِلَ " اے دوس کے فرد سنو! اسلام کی ابتداء بے وطنی میں ہوئی اور عنقریب بے وطن ہو جائے گا۔جس نے اللہ کی باتوں کی تصدیق کی وہ نجات پا گیا اور جس نے تصدیق نہ کی وہ ہلاک ہو گیا۔تمہاری قوم میں سے بلحاظ ثواب وہی بڑا ہے جو سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے اور یاد رکھو کہ حق عنقریب باطل پر غالب ہو جائے گا۔بَاب ٧٦: قِصَّةُ وَفْدِ طَتِي وَحَدِيثُ عَدِي بْنِ حَاتِمٍ بنی کے کے نمائندے اور حضرت عدی بن حاتم کا ذکر عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عَدِي بْنِ ٤٣٩٤: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۴۳۹۴ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا، (کہا:) حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ابو عوانہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الملک ( بن عمیر) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن حریث سے، عمرو نے حضرت عدی بن حاتم سے روایت کی۔انہوں حَاتِمٍ قَالَ أَتَيْنَا عُمَرَ فِي وَفْدِ فَجَعَلَ نے کہا: ہم حضرت عمر ( کے عہد خلافت میں اُن) يَدْعُو رَجُلًا رَجُلًا وَيُسَمِّيْهِمْ فَقُلْتُ کے پاس ایک وفد کے ساتھ آئے اور وہ ایک ایک أَمَا تَعْرِفُنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ قَالَ آدمی کا نام لے کر اس کو بلاتے گئے۔میں نے کہا: بَلَى أَسْلَمْتَ إِذْ كَفَرُوا وَأَقْبَلْتَ إِذْ امیر المومنین! کیا آپ مجھے نہیں پہچانتے؟ انہوں نے أَدْبَرُوْا وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوْا وَعَرَفْتَ إِذْ کہا: کیوں نہیں۔تم اس وقت مسلمان ہوئے جب ان لوگوں نے انکار کیا اور تم اس وقت (اسلام کی طرف) أَنْكَرُوْا فَقَالَ عَدِيٌّ فَلَا أُبَالِي إِذًا۔متوجہ ہوئے جب انہوں نے پیٹھ موڑی اور تم نے اس وقت وفا کی جب انہوں نے غداری کی اور تم نے (حق کو ) اس وقت پہچان لیا جب انہوں نے نہ پہچانا۔یہ سن کر حضرت عدی نے کہا: تو اب مجھے کچھ پروا نہیں جب آپ میرا سب حال اچھی طرح جانتے ہیں۔) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر وفادات العرب وفد دوس، جزء اول صفحه (۲۶۵)