صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 279 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 279

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ بیعت کی تو اس اثناء میں کہ میں آپ کے پاس تھا، الْغُلَامُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى الله وہ غلام آنکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا غُلَامُكَ فرمایا: ابوہریرہ! یہ تمہارا غلام ہے۔میں نے کہا: فَقُلْتُ هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْتَقْتُهُ۔وہ اللہ کے لئے ہے اور یہ کہہ کہ میں نے اسے اطرافه: ٢٥٣٠ ، ٢٥٣١ ، ٢٥٣٢ - آزاد کر دیا۔۔تشريح : قِصَّةُ دَوْسِ وَالطَّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الدوسي: دوس قبیلہ کے اسلام میں داخل ہونے سے کئی ایک مبالغہ آمیز روایتیں منقول ہیں۔مثلاً حضرت طفیل بن عمرو ذوالنور کے لقب سے مشہور ہیں۔اس بارہ میں یہ حکایت ہے کہ وہ مکی دور میں مسلمان ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بغرض تبلیغ اپنے قبیلے دوس کی طرف بھیجا اور دعا کی: اللَّهُمَّ نَورُ لَهُ البی! انہیں نور عطا کرنا تو ان کی آنکھوں کے در میان پیشانی سے نور نکلا اور وہ ڈرے مبادا لوگ انہیں تبدیل شدہ مخلوق سمجھیں۔تو وہ نور پیشانی سے ہٹ کر اُن کی چھڑی کے سرے پر آگیا اور تاریک رات میں وہ چمکتا تھا۔ہشام بن کلبی نے جن کی روایتیں غیر مستند ہیں، یہ واقعہ ایک لمبی روایت میں نقل کیا ہے۔اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ ان کا باپ مسلمان ہو گیا تھا، ماں مسلمان نہیں ہوئی تھی اور صرف حضرت ابوہریر ڈ اکیلے مسلمان ہوئے۔ابن کلبی نے یہ بیان بھی کیا ہے کہ حضرت حبیب بن عمرو بن حثمہ روسی قبیلہ دوس کے حاکم تھے۔ان سے قبل ان کے والد بھی حاکم تھا۔ان کی عمر تین سو سال ہوئی اور مسلمان ہونے سے پہلے کہا کرتے تھے کہ میں یہ تو جانتا ہوں کہ مخلوق کا ایک خالق ہے لیکن یہ علم نہیں وہ کون ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سن کر ۷۵ آدمیوں سمیت نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر سب مسلمان ہو گئے۔لے (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۲۸،۱۲۷) اسی قسم کی روایتوں کے پیش نظر عنوان باب الفاظ قصة دوس سے قائم کیا گیا ہے۔میری رائے میں جس وفد کا باب لفظ قصة سے قائم ہوا ہے اس سے متعلق شائع شدہ روایات میں اسی قسم کی خامی کی طرف اشارہ ہے۔مذکورہ باب کے تحت صرف دو روایتیں نقل کی گئی ہیں۔اشعریوں کے قرآن کریم عمدگی سے پڑھنے کی تعریف کے تعلق میں کتاب المغازی روایت نمبر ۴۲۳۲۔ابن سعد نے طبقات کبری میں وفد روس کے ذکر میں حضرت طفیل بن عمرو دوسی کا اپنے ستر یا اسی افراد خاندان سمیت مدینہ میں آنے کا ذکر کیا ہے جو مبالغہ آمیز بیان سے خالی ہے اور اس وفد میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبد الله بن از بہر دوسی بھی تھے۔یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خیبر میں ملے۔انہیں بھی اموال غنیمت میں سے حصہ ملا اور ابن سعد نے علاوہ حضرت ابو ہریرہ کا مندرجہ بالا شعر نقل کرنے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک (الاستيعاب في معرفة الأصحاب، الطفیل بن عمر و بن طریف جزء ۲ صفحه ۷۵۸،۷۵۷)