صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 277
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی تعلق میں دیکھئے کتاب المغازی روایت نمبر ۴۲۳۰ نیز کتاب فضائل اصحاب النبی صلی کی روایت نمبر ۳۷۶۳۔ابوزید مروزی کے نسخہ کے مطابق باب کی پہلی روایت کی سند میں ایک سقم ہے، جس کا ذکر امام ابن حجر نے کیا ہے کہ دو راویوں کا ذکر سہواً رہ گیا ہے۔ابو زید مروزی کے نسخہ میں یہ روایت یوں شروع ہوئی ہے: حَدَّثَنَا يَحْي بن آدم۔۔۔امام بخاریؒ اپنے وطن بخاری میں نو سال کے تھے جب یحی بن آدم کو فہ میں ۲۰۳ ھ ربیع الاول کو فوت ہوئے۔تحصیل علم کے لئے وہ بخارا سے نہیں نکلے تھے۔امام مروزی کی روایت سے دوراوی عبد اللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر چھوٹ گئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۲۱، ۱۲۲) باب کی دوسری روایت (نمبر ۴۳۸۵) کا تعلق اس وقت سے ہے جب حضرت ابو موسیٰ حضرت عثمان کے عہد خلافت میں امیر کوفہ مقرر ہوئے۔یمن سے اس روایت کا تعلق نہیں کیونکہ زہدم بن مضرب راوی کوفی ہیں۔جرم مشہور قبیلہ ہے۔جرم بن ربان کی طرف منسوب ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۲۳) تیسری روایت (نمبر ۴۳۸۶) سے متعلق ایک اعتراض اُٹھایا گیا ہے کہ بنو تمیم کا وفد 9ھ میں اور اشعری وفد اس سے بہت پہلے فتح خیبر کے بعد سات ہجری میں آیا تھا۔دونوں ایک وقت میں اکٹھے کیسے ہو سکتے ہیں کہ ایک نے بشارت قبول نہ کی اور دوسرے نے قبول کرلی۔اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دوسرے موقع پر بعض اشعری بھی موجود ہوں گے جنہیں مخاطب کیا گیا۔(فتح الباری جزء۸ صفحہ ۱۲۳) اس روایت کیلئے دیکھئے کتاب بدء الخلق روایات نمبر ۳۱۹۱،۳۱۹۰۔چوتھی روایت ( نمبر ۴۳۸۷) میں قرنَا الشَّیطان کی وضاحت خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی ہے۔اس سے مراد قبائل ربیعہ و مضر ہیں جنہوں نے اوائل ہجرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کی اور فتنه و فساد سے علاقے کا امن برباد رکھا۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات سے ان قبیلوں کے سینگ ٹوٹے اور بنو تمیم میں بھی نیک تبدیلی ہوئی۔امام محمد بن سعد نے طبقات کبری میں وَفَادَاتُ الْعَرَبِ عَلَى رَسُولِ اللہ کے عنوان کے تحت قبائل کے وفود کا ذکر کیا ہے جن میں وفد اشعر مین اور وفد دوس بھی ہیں۔اشعریوں کے وفد میں پچاس افراد بتائے گئے ہیں۔جن میں حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی تھے جن کے اسلام سے متعلق تحقیق کر کے اسے قبول کرنے کا ذکر کتاب المغازی روایت نمبر ۴۲۳۰ میں ملاحظہ ہو۔طبقات میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ براستہ سمندر کشتیوں میں جدہ آئے اور فتح خیبر کے ایام میں مدینہ پہنچے اور خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور بیعت اسلام کی۔آپ نے فرمایا: لوگوں میں اشعری كَضرة فيها مسلک اس تھیلی کی مانند ہے جس میں مشک ہو۔ابن سعد کا بیان مختصر ہے اور مذکورہ بالا مثال سے صحیح بخاری کی روایات کی مفہوما تائید ہوتی ہے۔الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر وفادات العرب، وفد الأشعرين، جزء اول صفحہ ۲۶۲)