صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 276
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى قَالَ قَدْ وہ بات بتاتا ہوں جو نبی صلی ا ہم نے تمہاری قوم اور أَحْسَنَ قَالَ عَبْدُ اللهِ مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا عالقمہ کی قوم سے متعلق فرمائی ہے۔علقمہ کہتے تھے: میں نے سورۃ مریم کی پچاس آیتیں ހ وَهُوَ يَقْرَؤُهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى خَبَّابٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَلَمْ يَأْنِ پڑھیں۔حضرت عبد اللہ نے (حضرت خباب سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ۔لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى قَالَ أَمَا إِنَّكَ عمدہ پڑھا ہے۔حضرت عبد اللہ نے کہا: جو بھی تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَلْقَاهُ رَوَاهُ میں پڑھتا ہوں، علقمہ بھی اسے ضرور پڑھ لیتا ہے۔پھر انہوں نے مڑ کر حضرت خباب کو دیکھا اور انہوں نے سونے کی انگوٹھی پہنی تھی۔انہوں نے کہا: کیا ابھی اس انگوٹھی کے لئے وقت نہیں آیا کہ وہ اُتار ڈالی جائے ؟ انہوں نے کہا: اچھا، اب اس کے بعد آپ مجھے یہ پہنے ہر گز نہ دیکھیں گے ؟ اور انہوں نے وہ اُتار ڈالی۔اسی طرح اس حدیث کو غندر نے شعبہ سے روایت کیا ہے۔تشريح: قُدُوْمُ الْأَشْعَرِينَ وَأَهْلِ الْيَمَنِ : عنوانِ باب از قبیل عطف عام على الخاص ہے کیونکہ قبیلہ اشعری یمنی ہے۔اہل یمن کا الگ ذکر کرنے سے امام بخاری کی مراد دو الگ الگ واقعات کا ذکر ہے۔ایک حضرت ابو موسیٰ اشعری کی آمد کا اور دوسرا حضرت نافع بن زید حمیری گا۔حمیر بھی یمن میں ہے۔اول الذکر صحابی صرف اپنے مخصوص قبیلے کے نمائندہ تھے اور حضرت نافع اہل یمن کے۔دونوں وفد الگ وقتوں میں آئے تھے۔اشعری ۷ ھ میں فتح خیبر کے موقع پر اور حمیر وھ میں۔یہ سال وفود کی آمد کا تھا۔اس میں صراحت سے ذکر ہے کہ مالک بن مرارہ الر بادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملوک حمیر کی طرف سے رمضان ۹ھ میں اُن کا خط لے کر آیا۔جس میں اُن کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع تھی۔طبقات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کی اطلاع صلی علیہ جو اب بھی نقل کیا گیا ہے۔وَقَالَ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِي الله هُمْ مِني وَأَنَا مِنْهُمُ : عنوانِ باب سے متعلق یہ حوالہ کتاب الشركة روایت نمبر ۲۴۸۶ میں گزر چکا ہے۔باب ۷۴ کے تحت آٹھ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔پہلی روایت (نمبر ۴۳۸۴) کے الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر وفادات العرب، وفد حمیر، جزء اول صفحہ ۲۶۷)