صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 270
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۷۰ ۶۴ - کتاب المغازی فَعَدَدْتُهَا فَوَجَدْتُهَا خَمْسَ مِائَةٍ فَقَالَ کہا : میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے سنا، خُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ۔کہتے تھے: میں حضرت ابو بکر کے پاس آیا۔تو حضرت ابو بکر نے مجھے کہا: انہیں گنو۔میں نے انہیں گنا اور وہ پانچ سو درہم تھے۔پھر فرمایا: اطرافه ٢٢٩٦ ، ٢٥٩٨ ، ٢٦٨٣ ، ٣١٣٧، ٣١٦٤۔: اتنے ہی دو دفعہ اور لے لو۔تشریح: قِضَةُ عُمَانَ وَالْبَحْرَيْنِ: عمان اور بحرین کا واقعہ میرت ابن ہشام نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ جن عربی ممالک میں امن عامہ قائم ہو گیا تھا اور وہاں کے لوگوں کو وحدت ملیہ کی 인 قدرو قیمت معلوم ہوئی اور انہوں نے اسلام سے رابطہ و اتحاد قائم کیا، اسلام قبول کر کے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدات صلح و امن قائم کر کے تو آپ نے امراء و عمال کو تحصیل زکوۃ اور اموال جزیہ وغیرہ وصول کرنے کی غرض سے مختلف علاقوں میں بھیجا۔بحرین کی طرف حضرت علاء بن حضرمی بھیجے گئے تھے۔لے عمان بھی بحرین کی بندرگاہ ہے۔اس تلفظ کا ایک قصبہ ع کی فتح سے ہے جو شام میں ہے۔عنوان باب میں دونوں کا ذکر شبہ دور کرنے کی غرض سے اکٹھا کیا ہے۔ابن سعد نے وَفَدُ ازْدِعُمان کے عنوان سے اپنی طبقات میں اہل عمان کے اسلام قبول کرنے اور ان کی دینی تعلیم کی غرض سے حضرت علاء بن حضر مٹی کے عمان میں بھیجے جانے کا ذکر کیا ہے۔اور بحرین کا ذکر شرح باب ۶۹ میں گزر چکا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت حضرمی گی تبلیغ سے علاقہ بحرین کے مقابل عبد القیس وغیرہ اسلام سے متعارف ومانوس ہوئے اور وہ وہاں کے عامل (گورنر مقرر ہوئے۔عمان بحرین کی بندرگاہ ہے اور اسی علاقے کا ایک حصہ ہے۔جن لوگوں نے اس کو اس کے اس نام کی وجہ سے شام کا علاقہ سمجھا ہے، انہیں غلطی لگی ہے۔طبرانی نے حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص۔جلندی سردار عمان کے بیٹوں جیفیر اور عباد کی طرف بھیجے گئے تھے اور بعض صحابہ کو نمائندہ بنا کر شابان عرب کو دعوت حق پہنچائی۔کے اس روایت سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا قصہ نجران والا ہی ہے اور یہ کہ دعوت حق کا پیغام پہنچانے والے وفود سرداران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ دیر قبل روانہ کئے گئے تھے۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ عنوان باب میں طبرانی کی روایت کی طرف اشارہ ہے جس سے وقت کی تعیین ہوتی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۲۰) وَعَنْ عَمْرٍو عَن مُحمَّد بن علي : یعنی مذکورہ بالا سند ہی سے حضرت جابر والی یہ روایت بھی مروی ہے۔ل (السيرة النبوية لابن هشام ، خروج الأمراء والعمال على الصدقات، جزء ۲ صفحہ ۶۰۰) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر وفادات العرب، وقد أزد عمان، جزء اول صفحه (۲۶۴) (المعجم الكبير للطبراني، من اسمه مسور ، جزء ۲۰ صفحه (۸)