صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 265 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 265

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۶۵ ۶۴ - کتاب المغازی قرآن پیش کرتا تھا۔ چنانچہ مندرجہ ذیل کلمات سیرت ابن ہشام میں بطور نمونہ لکھے گئے ہیں: لَقَدْ أَنْعَمَ اللهُ عَلَى الحُبْلَى، أَخْرَجَ مِنْهَا نَسَمَةً تَسْعَى مِنْ بَيْنِ صِفَاقٍ وَحَسَّی ۔ یعنی اللہ نے حاملہ عورت پر یہ انعام کیا کہ اس میں سے انسان کو پیدا کیا۔ اس کے کو کھوں اور انتڑیوں کے درمیان سے جو دوڑتا پھرتا ہے۔ چونکہ مذکورہ بالا واقعہ الگ زمانے سے تعلق رکھتا ہے اس لئے امام بخاری نے اس کا ذکر الگ عنوان قِصَّةُ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِي سے کیا ہے۔ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ انہوں نے مذکورہ بالا واقعہ قصہ قرار دیا ہے جو عام طور پر مشہور اور زبان زد خلائق تھا۔ قصہ کے معنی ہیں مذاکرہ یا واقعہ ۔ اسی لفظ سے ما بعد کے دو باب قائم کئے گئے ہیں۔ بَاب ۷۲ : قِصَّةُ أَهْلِ نَجْرَانَ اہل نجران کا واقعہ ٤٣٨٠ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ :۴۳۸۰ : عباس بن حسین نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ إِسْرَائِيلَ يحي بن آدم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ سے، اسرائیل نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے シ صلہ بن زفر سے، صلہ نے حضرت حذیفہ سے زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ روایت کی۔ انہوں نے کہا: عاقب (عبد المسیح) اور وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ سید (ایم) جو نجران کے عیسائیوں کے دو رئیس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيْدَانِ أَنْ تھے رسول اللہ صلی علیہ سلم کے پاس پاس آئے۔ وہ چاہتے تُلَاعِنَاهُ قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ تھے کہ آپؐ سے مباہلہ کریں۔ حضرت حذیفہ کہتے لَا تَفْعَلْ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَنَا تھے: ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: لَا تُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبْنَا مِنْ بَعْدِنَا مباہلہ نہ کریں۔ کیونکہ اللہ کی قسم ! اگر وہ نبی ہوئے قَالَا إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا وَابْعَثْ اور ہمارے لئے لعنت کی دعا کی تو ہم بھی کامیاب مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا نہ ہوں گے اور نہ ہماری اولاد ہمارے بعد۔ ان دونوں نے کہا: ہم آپ کو جو بھی آپ ہم سے أَمِينًا فَقَالَ لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينَا اتگیں گے، دیں گے۔ آپ ہمارے ساتھ ایک امین حَقَّ أَمِيْنِ فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ شخص بھیجیں اور آپ ہمارے ساتھ سوائے امین رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کے کسی کو نہ بھیجیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تمہارے (السيرة النبوية لابن هشام ، قدوم و قد بنى حنيفة ومعهم مسيلمة الكذاب ارتداده، جزء ۲ صفحہ ۵۷۷)