صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 264
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۶۴ ۶۴ - کتاب المغازی نام مسعود بن کعب تھا اور اس کا لقب عیصلہ تھا اور وہ ذو الحمار بھی کہلاتا تھا۔ کے سابقہ باب کے تعلق ہی میں یہ باب ہے۔ اس کا عنوان الفاظ قِصَّةُ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِي سے قائم کیا ہے اور اس روایت میں وفد بنی حنیفہ کی فرود گاہ سے متعلق جو ابہام ہے اس کا ازالہ کیا گیا ہے۔ طبقات کبری ابن سعد میں اس وفد کی فرودگاه حضرت رملہ بنت حارث انصاری جو بنو نجار کے خاندان سے تھیں، کا کا گھر بتائی گئی ہے۔ کے طبری ہے اور الروض الانف سے میں بنت حارث انصاری کا گھر بیان ہوئی ہوئی ہے۔ (یعنی یہاں نام مذکور نہیں ہے۔) حضرت رملہ بنت حارث کا گا حارث کا گھر بطور مہمانوں کی فرودگاہ کے استعمال ہوتا تھا۔ ابن اسحاق نے بنو قریظہ کے تعلق میں بھی اس حویلی کا ذکر کیا ہے کہ اس قبیلہ کے افراد اس میں قید کئے گئے تھے۔ شے عربوں میں بالعموم بجائے نام کے کنیت سے ایک دوسرے کو پکارنے یا ذکر کرنے کا طریق متعارف ہے اور اسی متعارف طریق سے الفاظ وَهِيَ أُم عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِر سے حویلی کی تخصیص و تعین کی گئی ہے۔ کیونکہ اسی کنیت سے وہ حویلی مشہور تھی جس میں وفود کو ٹھہرایا جاتا تھا۔ امام بخاری نے وضاحت کے لئے اس خاتون کا تعارف جس کے ہاں وفد ٹھہر تھا، الفاظ وَهِيَ أَم عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامر سے کرایا ہے کہ جس حویلی میں مسیلمہ ٹھہرا تھا، وہ ام عبد اللہ بن عامر بن کریز کی حویلی تھی۔ ام عبد اللہ بن عامر کا نام کیسہ تھا اور وفد بنی حنیفہ کی آمد کے وقت یہ مسیلمہ کی بیوی تھی اور اس رشتہ داری کی وجہ سے وفد بنی حنیفہ کو اس کی حویلی میں ٹھہرایا گیا۔ بعد ازاں جب مسیلمہ نے علم بغاوت بلند کیا اور لڑائی میں مارا گیا تو اس کی بیوی ( کیسہ ) نے اپنے چازاد بھائی عبد اللہ بن عامر بن کریز سے شادی کرلی اور کیسہ کے بطن سے تین بیٹے پیدا ہوئے۔ عبد الرحمن ، عبد الملک اور عبد اللہ ۔ تیسرے بیٹے کا نام اس کے باپ کے نام پر تھا اور اس کی ماں کیسہ ام عبد اللہ بن عامر کی کنیت سے مشہور ہوئیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۱۵، ۱۱۶) دو کنگن والی خواب کی تعبیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کذاب اشخاص سے فرمائی ہے اور یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں پوری ہوئی ۔ فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر پھونکا جس سے وہ دونوں کنگن اُڑ گئے اور آپ کا پھونکنا آپ کے ایک خلیفہ کے ذریعے سے پورا ہوا۔ جب دونوں کذاب لڑائی میں مارے گئے اور فتنہ ارتداد فرو ہوا۔ عالم روحانی کے اس قسم کے مشاہدات بکثرت ہیں۔ إِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الأَمْرِ ۔۔۔ مسیلمہ کذاب کے مطالبہ شراکت کا واقعہ بعد کا ہے جیسا کہ سیرت ابن ہشام میں اس بارے میں صراحت ہے۔ ابن اسحاق نے مسیلمہ کذاب کے مسح کلام سے بعض عبارتیں بھی نقل کی ہیں جو وہ بطور 1 (الروض الأنف للسهيلي، مسعود العنسی، جزء۷ صفحہ ۴۴۵ ) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر وفادات العرب، وفد حنيفة، جزء اول صفحه (۲۴۰) (تاريخ الطبري، سنة عشر ، قدوم و فد بنی حنیفه و معهم مسيلمة، جزء دوم، صفحه ۱۹۹) الروض الأنف للسهيلي، امرأة مسيلمة، جزء۷ صفحه ۴۴۵ ) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بني قريظة ، مقتل بنى قريظة، جزء ۲ صفحه ۲۴۰)